English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فلسطینی محمود عباس سے کیوں مایوس ہیں؟ شفقنا خصوصی

القمر

محصور غزہ میں سیزفائر اور صدارتی انتخابات کے التوا کے بعد فلسطینیوں کا مطالبہ ہے محمود عباس کو رخصت ہو جانا چاہیے۔  20 مئی کو اسرئیلی جارحیت کے بعد سیزفائر کے اعلان کے بعد فلسطینی علاقوں خاص کر مغربی کنارے اور غزہ میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ اگلی صبح مشرقی یروشلم فلسطینیوں سے بھر گیا جو کہ یہ نعرے لگا رہے تھے کہ ” لوگ چاہتے ہیں کہ صدر کو باہر پھینکا جائے۔ یقینا ان کا اشارہ فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف تھا۔محمود عباس فتح پارٹی کے سربراہ ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کے سربراہ ہیں اور محدود خودمختاری رکھتے ہیں۔

اس ماہ کے آغاز سے فلسطین اور اسرائیل کے مابین تناو اس وقت بڑھ گیا جب اسرائیلی افواج نے مسجد الاقصی میں عبادت گزاروں اور پر حملہ کر دیا۔ حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ یروشلم میں مسجد الاقصی میں موجود عبادت گزاروں پر حملہ کرنے باز رہے۔ واضح رہے کہ حماس کے اختیار میں صرف غزہ کا علاقہ ہے۔ اس کے بعد جن اسرائیلی افواج نے رات کے وقت مسجد پر دھاوا بولا تو حماس نے اسرائیل پر پہلا راکٹ فائر کیا۔ غزہ میں اسرائیل کی مسلسل بمباری سے 250 کے قریب فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 12 اسرائیلی بھی ہلاک ہو گئے۔ اس سب کے باوجود فلسطینی اپنی قیادت سے خوش نہیں ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان ابو مازن سے خوش نہیں ہیں کیونکہ یہودی جبر و ظلم کے سامنے خاموش تماشائی بنے رہے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے الاقصی پر قبضے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے محمود عباس پر شدید تنقید کی۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ محمود عباس سے چھٹکارا درست سمت میں قدم ہے۔

رہنما کے بغیر بغاوت اور سیز فائر کادباو

فلسطینی مظاہرین اور کارکنان ایک طویل عرصے سے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں محمود عباس کے رد عمل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور ہہی وجہ ہے فلسطینی اتھارٹی یا محمود عباس کو اس کا کریڈٹ دیے بغیر وہ اس کو بغیر رہنما کے بغاوت قرار دیتے ہوئے سیز فائر کو زبردستی قرار دے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ اسرائیلی افواج الاقصی کمپاونڈ میں داخل ہوئی ہیں اور غزہ پر غیر انسانی بمباری کی ہے۔ لیکن اس مرتبہ مقبوضہ یروشلم اور خاص طور پر مغربی کنارے پر نوجوان نسل میں بھرپور رابط تھا۔

الاقصی کمپاونڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد مشرقی یروشلم کے نواح میں ایک چھوٹ سے علاقے شیخ جراح میں نوجوان نسل کی جانب سر غیر روایتی مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ اپریل میں اسرائیلی عدالت نے شیخ جراح سے چھ گھروں کے خاندانوں کو گھر خالی کرنے کے احکامات جاری کیے۔ یعنی بالفاظ دیگر وہ اپنے گھر اسرائیلی آبادکاروں کے حوالے کر دیں جو درحقیقت اسرائیلی حکومت کاایجنڈا ہے۔ اسرائیلی عدالت کے اس فیصلے کو سب سے پہلے سوشل میڈیا پر کوریج ملی اور اس کے بعد مین سٹریم میڈیا پر بھی اس کو وسیع کوریج دی گئی جس کا تمام تر سہرا نوجوان باسیوں محمد الکرد اور مونا الکرد کو جاتا ہےجنہوں نے اس حوالے سے لوگوں کو تازہ ترین معلومات بہم پہنچائیں اور اپنے نواح میں ہونے والے ان جرائم کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی۔ کرد خاندان اس حوالے سے احتجاج کرنے والے خاندانوں میں اول اول تھا اور اس احتجاج کی وجہ سے ہی سپریم کورٹ نے زبردستی انخلا کے فیصلے کو ملتوی کر دیا ۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ فلسطینیوں نے محمود عباس کے حوالے سے اس طرح کی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پچاسی سالہ محمود عباس کی مدت 2009 میں ختم ہو گئی تھی مگر ایک معاہدے کی مدد سے وہ گزشتہ 12 سال سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ 15 سال بعد 31 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل مایوس فلسطینیوں میں تبدیلی کے جذبات تیزی سے پنپ رہے ہیں تاہم رہنماوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک مقبوضہ مشرقی یروشلم میں موجود فلسطینیوں کو اسرائیل ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا تب تک انتخابات کو موخر کیا جائے۔ بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے پیچھے بڑی وجہ الفتح کی غیر مقبولیت ہے اور الفتح کو حماس کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ نصر القضوی جو کہ الفتح کے بانی یاسر عرفات کے بھتیجے ہیں اور محمد داہلان جو کہ جلاوطن متنازعہ رہنما ہیں کا کہنا ہے کہ محمود عباس کو حماس کے ساتھ ساتھ جماعت میں موجود اہم مخالفین سے بھی خطرہ ہے۔

ہفتہ، 22 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے