English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا تحریک انصاف میں مائنس عمران گروپ سرگرم ہے؟

القمر

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقا ت کے بعد جہانگیر ترین ہم خیال گروپ نے مسائل حل ہونے کا اعلان کردیا۔جہانگیر ترین گروپ کے لیڈر سعید اکبر نوانی نے کہا کہ کبھی جہانگیر ترین کے خلا ف انکوائری میں رعایت نہیں مانگی۔انہوں نے کہا کہ  ترین گروپ کے ارکان کے حلقے کے مسائل پر تحفظات تھے۔ سعید اکبر نوانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے حل کرنے کی یقین دہانی کروادی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی ترین گروپ کے تمام ارکان کو ترقیاتی فنڈز ملیں گے، بیورو کریسی ترین گروپ کے تمام جائز مسائل حل کرے گی۔  ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملاقات میں طے پایا کہ ترین گروپ بجٹ کی منظوری سمیت حکومتی اقدامات کو سپورٹ کرے گا۔  جہانگیر ترین کی حمایت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی کہا ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ’ناراض‘ رہنما جہانگیر ترین کے گروپ میں شامل اراکین اسمبلی کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے نقطہ نظر میں بھی بڑا وزن ہے تاہم علی ظفر کی رپورٹ پارٹی کی داخلی لائن طے کرے گی۔ جہانگیر ترین گروپ کے اٹھ کھڑے ہونے سے جو طوفان اٹھا تھا لگتا ہے وہ تھم گیا ہے اور اب عمران خان صاحب شاید سکون کا سانس لے سکیں مگر شاید ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جن کچی بنیادوں پر انہوں نے حکومت کھڑی کی ہوی وہ کسی بھی وقت کہیں بھی گر سکتی ہے۔

عمران خان اس سے قبل پاکستان جمہوری تحریک کے ہاتھوں تنگ تھے تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ڈی ایم کو داغ مفارقت ملنے کے بعد پی ڈی ایم جھاگ کی طرح بیٹھ گئی اور تمام تحریک انصاف نے سکھ کا سانس لیا۔ پی ڈی ایم کا نام اس طرح ختم ہوا جیسے کہ یہ کبھی وجود میں تھی ہی نہیں مگر یہ کیا ہوا کہ شہباز شریف نے جیل سے باہر آتے ہی پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو عشائیے کی دعوت دے دی۔  قائد حزب اختلاف شہبازشریف سیاسی محاذ پرمزید سرگرم نظرآرہےہیں،اورانہوں نےپی ڈی ایم کومکمل بحال کرنےکےلئےکوششیں شروع کردی ہیں۔ لیگی ذرائع کےمطابق شہبازشریف نےآصف زرداری اوربلاول بھٹوسمیت تمام اپوزیشن قائدین کوعشائیےکی دعوت بھی دی ہے،اورانہوں نےتمام اپوزیشن رہنماو¿ں کےلئےپیر 24 مئی کو اسلام آباد میں رات کےکھانےکا انعقاد کرنا ہے، وہ عشائیےکےدوران پیپلزپارٹی کوپی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت پرقائل کریں گے۔ اگر پی ڈی ایم کا احیاء ہوجاتا ہے تو عمران خان کے لیے ایک نیا سردرد شروع ہوجائے گا؟ مگر سوال یہ بھی ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہیں تو پھر وہ پی ڈی ایم میں نئی جان کس کے اشارے پر ڈال رہے ہیں۔

بات محض شہباز شریف کے عشائیے یا جہانگیر ترین گروپ کی ہوتی تو شاید تب بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر چھ وفاقی وزرا کا عمران خان سے بالا بالا چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جو عمران خان کے لیے سب سے زیادہ مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کرنے والے ان وزرا میں عمران خان کے اعمتاد والے لوگ شامل تھے جن میں اسد عمر اور پرویز خٹک شامل ہیں۔ یقینا ان وزرا کی عمران خان سے بالا بالا ملاقات مستقبل میں ہونے والے واقعات میں فوج سے اپنے لیے رعایت یا اہم پوزیشنوں کا مطالبہ ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان افراد نے خود کو عمران خان کے متبادل پیش کرنے کی کوشش کی ہو۔ کیونکہ شیخ رشید کا یہ بیان کہ  الیکشن میں کب جانا ہے یہ کارڈ عمران خان کے پاس ہے ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پس پردہ مائنس عمران فارمولے کے لیے فوج کو قائل کرنے کی کوشش کر رہےہیں۔  شیخ رشید نے کہا کہ یہ لوگ انہیں بھولا سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کی اپنی ٹائمنگ ہے۔ انہوں نے عثمان بزدار کے تین سال نکلوا دیے ہیں۔ تو اگر کسی کو یہ جاننا ہے کہ عمران خان نے الیکشن میں کس وقت جانا ہے تو عمران خان یہ کارڈ چھاتی کے ساتھ لگا کر کھیل رہا ہے۔ اگر عمران خان رلیکس رہ کر زندگی گزارنا چاہتا تو ان سب کو جانے دیتا۔ اگر میں عمران خان کی جگہ ہوتا تو میں رلیکس رہتا اور ڈیلیور کرتا اور یہ چخ چخ ہی ختم ہو جاتی۔ شیخ رشید کے بیانات سے لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سب اچھا نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کو ڈر ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے تعلقات، جہانگیر ترین کا گروپ اور حکومتی جماعت کے اپنے اندر خلفشار کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے اور یہ سب لوگ وقت آنے پر ایک دوسرے سے مل کر ان کی حکومت گرا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل واؤڈا کاشف عباسی کے پروگرام میں اس قسم کی زبان پر اتر آئے۔ شہباز شریف کو پاکستان سے جانے کی اجازت نہ دینا بھی اسی خوف کی عکاسی کرتا ہے۔ آرمی چیف کی وزرا سے ملاقات پر عمران خان اپنے ایک اور وزیر کے ذریعے اپنی ناراضگی سامنے لا رہے ہیں۔ کم سے کم یہ تو طے ہے کہ حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ آنے والے چند ماہ عمران خان حکومت کے لئے خاصے مشکل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اب یہ صاف ہے کہ وہ وقت ماضی ہو چکا جب ایک صفحہ اور اس پر حکومت اور فوج دونوں کے ہونے پر شادیانے بجائے جاتے تھے۔ اب وہ صفحہ کہیں گم ہو چکا ہے۔ اور ملاقاتوں پر اعتراضات نہ صرف کیے جا رہے ہیں بلکہ عوام میں  سرِ عام اٹھائے جا رہے ہیں۔ عمران خان کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو ان کے متبادل کی پیشن گوئی کرنا ہرگز مشکل نہیں ہے اور یہ بات اسٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے کہ تحریک انصاف کو صرف دو صورتوں میں زندہ رکھاجاسکتاہے یا سیاسی شہادت سے یا عمران خان کو تبدیل کر کے۔

ہفتہ، 22 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے