پوری دنیا میں کرونا وبا نے ہر چیز کو ساکت کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر نہ صرف اس نے معاشی سرگرمیوں میں یکسر کمی اور معیشتوں کا بیٹھ جانا بلکہ کمیونزم کی مکمل شکست کے بعد نئے ورلڈ ارڈر کا مکمل طور پر تبدیل ہوجانا بھی شامل ہے۔ بین الاقوامی معاملات کی تصویر پر اگر اس وقت کوئی رنگ نظر آتا ہے تو وہ صرف کرونا کا ہی ہے اور پوری دنیا اس وقت صرف کرونا پر قابو پانے کی کوشش میں ہے۔ کے آغاز سے مختلف ممالک کا نظام زندگی رک گیا اور اب تک دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔ اس وقت تک 2020 کرونا وائرس سے نمٹنے کے دو طریقے ہی بیان کیے گئے ہیں ۔ بلاشبہ ان میں سے ایک طریقہ کو عالمی ادارہ صحت نے بھی درست قرار دے کر اس کی تجویز دی ہے۔
انفرادی امنیت: معیشت کو مکمل طور پر بند کر دیں اور لوگ ذاتی علاحدگی یعنی قرنطینہ میں بیٹھ جائیں۔
اجتماعی امنیت: معیشت کو احتیاط سے چلنے دیں اور اجتماعی مدافعت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہم نے دیکھا کہ دنیا میں دونوں طریقہ کار رائج ہو چکے ہیں خاص طور پر امیکہ اور برطانیہ میں۔ جس کے نتیجے میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ان ممالک کو مکمل لاک ڈاؤن لگانا پڑا۔ اسی طرح اگر آپ پاکستان پر نگاہ دوڑائیں تو وزیر اعظم عمران خان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ اجتماعی مدافعت زیادہ مؤثر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی وجوہات موجود ہیں۔
۔ پاکستان کے پاس ذرائع کی کمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان بے محابا ٹیسٹنگ کے عمل سے نہیں گزر سکتا۔ اس وقت تک پاکستان بہ مشکل ایک لاکھ ٹیسٹ کیے ہیں جو کہ کل آبادی کا صرف 0.0454% ہے۔ پاکستانی معیشت کی حالت پہلے ہی دگرگوں ہے۔ اس صورت میں پاکستان کے عوام بھوک سے مر جائیں گے اور خاص طور پر دیہاڑی دار طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ ۔
۔ آخر میں پاکستانی لوگ اس وبا کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور ان کے خیال میں وبا نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ پاکستان میں ایک سروے کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کرونا ان کاکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ بات یقینا غلط ہے کیونکہ کرونا بلا امتیاز لوگوں کو نشانہ بنانا رہا ہے ۔ اس حوالے سے برطانیہ ایک کلاسک مثال ہے جہاں وزیر اعظم بورس جانسن اور شہزادہ چارلس میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر پاکستان بھی کرونا کا شکار ہوئے۔
حتی کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی لوگ بزنس کی اجازت کے لیے سڑکوں پر دکھائی دیے۔ حتی کہ بڑے ممالک بھی اپنی عوام کو گھروں میں پابند رکھنے میں ناکام ہوگئی۔ اگر ایک مرتبہ لوگ بھوک کی وجہ سے بے حس و حرکت ہوجائیں تو اس کے بہت خوفناک نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے کرونا وبا کا پھیلاؤ ایسا معاملہ ہے جسے نہ تو نگلا جا سکتا ہے اور نہ ہی اگلا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر دیہاڑی دار مزدور جو کہ بہ مشکل زندگی کا پہیہ کھینچ رہے ہیں وہ زیادہ احتیاطی تدابیر بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اس قدر آگاہی رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی کرونا وبا نے ریاستوں کی نااہلی کو مکمل طور پر لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ مثال کے طور ایک طاقتور سے طاقتور ریاست بھی اجتماعی عبادات پر پابندی نہ لگا سکی اور ملاؤں کے سامنے جھک گئی۔ ملا جوکہ مختلف حکومتی کمیٹیوں جیسا کہ رویت ہلال کمیٹی کا حصہ بھی تھے وہ بھی ریاستی پالیسی کو ماننے پہ تیار نہ تھے۔ اور ہمیشہ کی طرح حکومت ان کے سامنے جھک گئی تھی۔ اسی طرح کئی دہائیوں سے نظر انداز صحت کے شعبے نے بھی مکمل ناکامی کا اعلان کر دیا۔ جس سے کم از کم یہ بات سامنے آئی کہ ریاست کو جنگی سوچ کے علاوہ صحت کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں اپنے معاشرے میں تقسیم پر بھی غور کرنا ہوگا جو تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ قومی ایمرجنسی کے باوجود وبا پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا عمل جاری رہابلاش بہ سندھ حکومت نے شروع دن سے ہی وبا کے خلاف بہترین اقدامات کیے جب کہ مرکزی حکومت یعنی پاکستان تحریک انصاف تاحال کرونا کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ ابتدا میں تحریک انصاف لاک ڈاؤن کے لیے تیار تھی تاہم جب سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ نے 22 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو دوسرے صوبوں نے بھی اس کی پیروی کی ۔ اخبار کے مطابق فوج نے اس سارے معاملے کی قیادت کی اور دیگر صوبوں کو اسی منصوبہ بندی کی پیروی کرنا پڑی۔ خیر اب سوال یہ بھی ہے کہ معیشت کو کھول دینا اور بہترین کی بقا کا معاملہ بظاہر تو درست نظر آتا ہے مگر کیا یہ ممکن ہے؟ آئی ایم ایف کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی معیشت تین فیصد تک سکڑ جائے گی جس سے دنیا میں مزید بے روزگاری بڑھ جائے گی اور دنیا بھر میں معاشی کساد بازاری کا سخت خطرہ ہے۔ پس مزید لاک ڈاون کے خوفناک نتائج سامنے کی بات ہے۔ مزید برآں تیل کی قیمتیں پہلے ہی بین الاقوامی منڈی میں گر گئی ہیں اور ایک ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس طرح امریکہ کی ضرورت بھی کم ہوگئی ہے جس سے پیٹرول کی قیمتیں منفی میں چلی گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی تیل کی کمپنیوں کے پاس سٹاک کی کثرت ہے اور اس کی ضرورت کم ہے۔ اس سارے عمل میں دنیا کا غریب طبقہ مزید پس گیا ہے اور وہ محض دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی جان داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ غربت سے مرنا کرونا سے مرنے سے زیادہ مشکل ہے۔
اتوار، 23 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
