پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے کہا کہ لندن میں نواز شریف پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق جمعے کو لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے دفتر میں نامعلوم افراد نے داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ سینٹرل لندن میں واقع حسن نواز کے دفتر میں نواز شریف، اسحاق ڈار اور عابد شیر علی بھی موجود تھے۔مریم نواز نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’نواز شریف کی زندگی کے ساتھ دوران حراست کھلواڑ کرنے والے اب تک باز نہیں آئے۔نواز شریف کا مقابلہ اس سوچ سے ہے جس نے میری بیمار والدہ کی تصویریں بنانے کی کوشش کی،ہوٹل میں میرے کمرے کا دروازہ توڑا اور آج پھر نواز شریف پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ خدا کسی کو کم ظرف اور بزدل دشمن نہ دے۔
درحقیقت مسلم لیگ نواز کی طرف سے اس حملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ حملہ آور نے نقاب میںخود کو چھپایا ہوا تھا ۔ خیر پاکستان کے حوالے سے اس کو حملہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پاکستانی تناظر میں حملہ اس کو کہا جاسکتا ہے جب تک کسی کی گولیوںسے چھلنی لاش نہ پڑی ہو۔ تاہم یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اس حملے میںنہ تو نواز شریف کو کوئی نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی ان کے دفتر کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔ لندن پولیس نے بھی اس حوالے سے کوئی خاص نوٹس نہیںلیا ہے کیونکہ میاںنواز شریف کی شہرت کے حوالے سے یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ پاکستانیوں نے ان کی بدعنوانی پر رہ چلتے ہوئے بھی گالیاں دی ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیںہے۔ تاہم جس طرح مسلم لیگ نواز اس حملے کو پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کا مطلب صرف اور صرف عوام کی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔ پس اس پر مسلم لیگ ن سوائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے اور کچھ نہیںکر رہی اور خوامخواہ میں واویلا کر رہی ہے۔
اس حملے کے چرچے کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ مسلم لیگ ن یہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے حمایتیوں کو یہ باور کرائے کہ میاںنواز شریف لندن میںمحفوظ نہیںتو پاکستان میںکیسے محفوظ ہوسکتے ہیں۔ اس طرح مسلم لیگ ن کے اندر وہ دھڑا جو ان کی واپسی چاہتا ہے وہ خاموش ہو جائے گا جب دوسری جانب میاںشہباز شریف صاحب پاکستان جمہوری تحریک کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کاوش میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوںکا جو اعتراض ہے وہ میاں صاحب کی وطن واپسی ہے ہے اور اس حملے کے بعد اب یہ واضحعذر ہے کہ میاںصاحب کی جان کو ہر جگہ خطرہ ہے اور پاکستان میںتو یہ خطرہ کہیں زیادہ ہے لہذا ان کی واپسی کا مطلب ان کی جان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ پس اس طرحپاکستان جمہوری تحریک کی دیگر جماعتوں کا منہ بھی بند کرایا جاسکتا ہے۔ پس اس حملے سے یہ دو فوائد تو حاصل ہوئے ہیں۔
تیسری اور اہم بات یہ بھی ہے میاں صاحب کی مدت برطانیہ میں ختم ہوچکی ہے اور اب حکومت کسی بھی وقت حکومت برطانیہ پر یہ دباؤڈال سکتی ہے کہ میاںصاحب کو فوری طور پر وطن واپس بھجوایا جائے کیونکہ اب لندن میںان کے قیام کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ اس طرحکے حملے سے میاں صاحب یہ جواز پیش کر سکتے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیںوطن واپس نہ بھجوایا جائے۔ یہ بات درست ہے کہ میاںصاحب کے دفتر پر کسی نے حملہ کیا ہے مگر یہ کہنا کہ اس حملے کے پیچھے پاکستانی عناصر ہیں سراسر غلط ہے۔ جب تک اس حملے کی تحقیقات نہیں کی جاتیںاور سچ سامنے نہیںآتا اس طرح کے بے بنیاد الزامات سے گریز کرنا چاہیے۔ لندن پولیس کو چاہیے کہ اس حملے کے پیچھے عناصر اور اس کی وجوہات کو درست انداز میں سب کے سامنے لائے تا کہ پتا چل سکے کہ یہ حملہ ن لیگ نے خود کروایا ہے یا پھر کسی نے ان کی بدعنوانی پرماضی کی طرح غصے کا اظہار کیا ہے۔
اتوار، 23 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
