آج ہمارا معاشرہ بہت سارے مسائل ، تضادات، تنازعات اور بدعنوانی کا شکار ہے ۔ اس لیے موجودہ دور میں اپنی اپنی اسلامی ذمہ داریوں کو پورا کرنا نہایت اہم ہے اور وقت کی اولین ضرورت ہے۔ اسلام نے ہمیں معاشرتی مسائل کے حل کے لیے جو علم اور فہم عطا فرمائی ہے اس کو سمجھ کر ہم ایک بہترین معاشرے اور ایک بہترین امت مسلمہ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
1۔ رابطے کے ذریعے اتحاد
اگر مسلمان ایک دوسرے سے دور اور الگ تھلگ گروہوں میں بٹ جائیں گے یا ان کو ا س تقسیم سے بچانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جاتی تو امت مسلمہ میں اتحاد ناممکن بات ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ممالک کو ایسے عملی اقدامات اور رستوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ ایک دوسرے سے جڑ کر رہ سکتے ہیں۔ یہ اصول نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے اور اس اصول پر عمل کر کے ہم ایک دوسرے سے جڑ کر اور ایک دوسرے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اور اس عمل کے ذریعے ہی ہم ایک دوسرے کی تاریخ، رسوم و رواج، رہن سہن اور اچھے اقدار سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔
2۔ قرآن کریم کے احکامات کے مطابق مسلمانوں کو ایک دوسرے کا اتحادی بن جانا چاہیے
اس بات کو محض زبانی کلامی کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کو عملی شکل دینا، معاہدے کی صورت میں ڈھالنا اور یادداشتوں کی شکل میں لکھنا بہت ضروری ہے تاکہ تمام مسلم ممالک ایک دوسرے کے مضبوط اتحادی بن جائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے معاہدوں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح مسلمانوں کے مابین سیاسی تنظٰیم پیدا کی ۔ قرآن کریم بھی چیزوں کو لکھنے اور معاہدوں پر پورا اترنے پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔
3۔ معاشی بھائی چارہ
دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی علاقوں کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ وہ ہر چیز کی پیداوار میں خود کفیل ہوں۔ اور تمام مسلم ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی پابندی یا شرائط کے تجارت کا عمل جاری رکھیں تاکہ تمام مسلم ملکوں کی معیشت مضبوط ہو۔ مسلمان ملکوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کس طرح خود انحصاری اور ترقی کی منازل تک پہنچ سکتے ہیں۔ مسلمان ممالک کو اب محض امداد اور فوری امداد سے آگے نکل کر سوچنا ہوگا۔
4۔ ذاتی دفاع اور تحفظ
مسلمانوں کی زندگی، جائیداد اور اثاثوں کا تحفظ اور سیکورٹی اس طرح اہم ہے جس طرح کے دنیا کے دیگر انسانوں کی۔ موجودہ حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں قومیں اور افراد ایسی مہارات سے لیس ہوں جو ان کو اس خطرے کی صورت میں تحفظ دے سکے۔ مسلم اکثیرتی ممالک کو فوجی اتحاد کی صورت میں متحد ہونا چاہیے اور آپس کے معاملات کو حل کرنے کے لیے ثالث کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ مزید برآں مسلمان ملکوں کو اسلحے کی دوڑ میں بھی اپنی طاقت کو بڑھانا چاہیے اور ایک دوسرے کو فوجی سامان کی فروخت اور سائنس اور ریسرچ میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔
5. بین المذاہب ہم آہنگی اور اس سے بڑھ کر
اس وقت نہ صرف بین الاقوامی بلکہ مقامی طور پر بھی مسلمانوں کے مفاد میں ہے کہ وہ بین المذاہب بات چیت میں ملوث ہوں۔ اور اس کا آغاز مغربی ممالک کی طرف سے ہونا چاہیے۔ اس قدر بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کے باوجود ابھی تک بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جس سے مختلف نسلوں اور ثقافتوں میں باہمی سمجھ بوجھ کا فقدان ہے ۔ اس لیے مسلمان ممالک کو بین المزاہب ہم آہنگی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیئیں۔
6. مشترکہ زبانیں مختلف ریاستوں اور افراد کو قریب لاتی ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ مقامی زبانوں کو ترق کر دیں یا انہیں ترجیح نہ دیں۔ مسلمانوں کے لیے عربی ایک مشترکہ زبان بن سکتی ہے جب کہ عرب ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ دیگر مسلمان ممالک کی جانب سے بولی جانی والی زبانوں میں مہارت حاصل کریں۔ مسلمان دیگر مسلم ممالک کی زبانوں میں دلچسپی لینے کی بجائے یورپی ممالک کی زبانوں پر ترجیح دیتے ہیں اور انہیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان ملکوں میں خواندگی کے اضافے کے لیے منصوبے بھی شروع کیے جائیں۔
7. علم سیکھنے کی کوئی حد نہیں
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا بھر سے علم کے حصول کے لیے اپنی کاوشیں تیز کریں اور اپنے اندر سیکھنے کی لگن پیدا کریں۔ یہ ضروری ہے کہ مسلمان علم کے حصول کے لیے خود کو صرف مغرب تک محدود نہ کریں۔ موجودہ دور میں حصول علم کے لیے جسمانی موجودگی ضروری نہیں ۔ دنیا بھر سے آپ آن لائن تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلمان ممالک کو بہترین یونیورسٹیز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ریسرچ کے عمل کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔
افسوس ناک بات ہے کہ دنیا میں سو بہترین یونیورسٹیز میں ایک بھی یونیورسٹی مسلم ممالک کی نہیں۔ وہی مسلمان جو کبھی دنیا کے علم و ریسرچ کا مرکز ہوا کرتے تھے ۔ جن میں ابن خلدوں اور الیثم ، اور امام جعفر صادق جیسے لوگ موجود تھے آج ان میں نہیں ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان پہلے بہترین جامعات کی بنیاد رکھیں جو علم و ریسرچ کا مرکز ہوں۔
8. سرحدوں سے پار
جب مسلمانوں کے مسائل کی بات ہو تو پھر سرحدوں سے ہٹ کر بات کرنی چاہیے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں مسلمان ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری بہت اہم اور ضروری قدم ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک میں مسلمانوں کو اپنی عوام کے معاملات میں خصوصی دلچسپی لینی چاہیے اور ایسے ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کی بہتری کے لیے بھی مشترکہ طور پر کوششیں کرنی چاہئیں۔
9.میڈیا اور ثقافتی مسائل
بین الاقوامی میڈیا دوسرے لوگوں کی تاریخ اور ثقافت کو سمجھنے اور اس کو آگے بڑھانے کے علاوہ اس کی اقدار کو بھی شئیر کر سکتا ہے۔ ہم اس حوالے سے مشہور ترکی ڈرامہ ارطغرل کی مثال لے سکتے ہیں جس کو بہت سارے مسلمان ممالک بشمول مغرب نے اپنے ممالک میں دکھایا ہے اور لوگوں نے اسے بہت پسند کیا ہے۔ اس ڈرامے نے مسلم اقدار اور ان کی ثقافت کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
10. قومیت اور نسل پرستی کی آگاہی
مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمان نسل پرستی اور قومیت کی انتہا پسند شکلوں کا تجزیہ بہترین اندا ز میں کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مغرب کی ان پالیسیز سے بہتر انداز سے نمٹنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ یہ مغربی ممالک مسلم مخالف اور اسلام مخالف یعنی اسلاموفوبیا کا گڑھ ہیں اس لیے اس حوالے سے تمام مسلمان ملوکوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں مغرب کے مسلمان مخالف اور اسلاموفوبک رویے کے بارے میں اپنے بچوں کو آگاہی فراہم کریں۔
پیر، 24 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
