English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے پاکستان کو مکمل تباہی سے کیسے بچایا؟ شفقنا تجزیہ

القمر

جنوری 2021 میں عالمی معاشی فورم سے خطاب کرتے ہوئے نریندرا مودی نے کرونا وبا پر بھارتی فتح کااعلان کیا۔اس اعلان کے محض دو ماہ بعد ہی مودی سرکار کے وزیرصحت ہرش وردھان نے دعوی کیا کہ بھارت کرونا وبا کے خلاف جنگ کے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ان دعووں کے بعد مودی سرکار ریاست کیرالہ میں کئی ہفتوں تک انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہے ۔ اس بعد کرونا کے پھیلاو کا سب سے بڑا میلا یعنی کمبھ میلا منعقد ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک زبردست ویکسین ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔ اپریل کے وسط میں بھارت کے حالات یہ تھے کہ پورے ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی کیونکہ بھارت نے جس تیزی سے کرونا کیسز میں اضافہ دیکھا اس سے قبل کہیں نہیں دیکھا گیا۔

روزانہ کی بنیاد پر کرونا کیسز کی تعداد نصف ملین تک جا پہنچی ، اموات کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی اور بہت بڑے بڑے ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت ہو گئی۔ سینکڑوں افراد کی میت سوزی، گنگا میں تیرتیں لاشیں اور اپنے پیاروں کے لیے آکسیجن کی بھیک مانگتے افراد جیسے خوفناک مناظر نے مودی کے بہت پرجوش حمایتیوں کو بھی اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ یہ سوال اٹھائیں کہ حکومت نے آخر اس خوفناک تباہی کو روکنے کے لیے کیوں کچھ نہ کیا؟

اگر اعدادو شمار کی بات کی جائے تو 11 مارچ 2021 تک بھارت میں اموات کی شرح 110 یعنی 1۔0 اموات فی دس لاکھ تھی۔اور اس دوران مثبت کیسز کی شرح 5۔2 فیصد تھی۔ تاہم 12 مارچ سے بھارت نے کرونا کیسز کی مثبت شرح اور اموات میں تیزی سے اضافہ دیکھا۔ صرف دو ماہ بعد ہی اموات کی تعداد چار ہزار یومیہ تک جا پہنچی جبکہ مثبت کیسز کی شرح 22 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی۔  مارچ اور اپریل کے دوران بھارتی حکومت اس خطرناک صورتحال کو جانچنے میں ناکام رہی۔ دوسری جانب حکومت نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید کو بھی دبانے کی کوشش کی جسے کور اپ کا نام دیا گیا۔

پاکستان اور بھارت اپنے سماجی و معاشی اشاریوں میں ہرگز مختلف نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کی بڑی آبادی کا ایک حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے۔ دونوں ممالک کے نظام صحت اچھے وقتوں میں بھی کمزور ہی رہا ہے اور دونوں ممالک کی آبادی انفیکشنز اور امنیت کے حوالے سے ایک جیسےتجربے سے گزری ہے۔  تاہم اگر بھارت اور پاکستان کے نظام صحت کا تقابل کیا جائے تو بھارت پاکستان سے کہیں آگے ہے۔ تاہم یہ دو ممالک جن کی آبادیاں یکساں ، نظام صحت یکساں اور چیلنجز ایک جیسے مگر گزشتہ تین ماہ میں دونوں کا کرونا پر رد عمل اور کرونا کی سمت یکسر مختلف۔ اس بات کا جواب پاکستانی حکومت کے کرونا وبا کے رد عمل کے قریبی تجزیے سے مل سکتا ہے۔فروری کے مہینے میں پاکستان میں کرونا کیسز کی مثبت شرح چار فیصد سے کم تھی۔ تاہم مارچ کے اوائل میں یہی شرح چار فیصد سے بڑھ گئی حتی کہ مارچ 31 تک اس کی سطح 6۔10 فیصد تک جا پہنچی۔اور اس کے ساتھ ساتھ اموات کی شرح بھی بڑھنے لگی ۔ 26 مارچ کو پہلی مرتبہ یومیہ اموات کی تعداد پچاس ہو گئی اور صرف دو دن تک 140 تک پہنچ گئی۔ جس وقت کرونا کی شرح پاکستان میں تیزی سے بڑھنے لگی تو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے ایسے فیصلے لیے جو بعد میں ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہوئے۔

مارچ 11 کو جب مثبت کیسز کی ٹیسٹ کی شرح 4 فیصد سے بڑھ گئی تو این سی او سی نےبہت ساری پابندیاں عائد کر دیں جیسا کہ کرونا کے پھیلاو کےعلاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون اور مائیکرو لاک ڈاون، 50 فیصد کام گھر سے کرنے کا حکم اور 10 بجے تک تمام معاشی سرگرمیوں کا خاتمہ وغیرہ۔ 22 مارچ کو 8 فیصد سے زائد مثبت شرح والے علاقوں پرمزیدسخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔پشاور، سوات، فیصل آباد، لاہور، راولپنڈی ، ملتان ، مظفر آباد اور بہاولپور میں مزید سخت پابندیاں مثلا بارڈر لاک ڈاون، ان ڈور ہوٹلنگ پر پابندی، پارکوں ، سینما گھروں اور خانقاہوں کی بندش اور شہر میں چلنے والی عوامی ٹرانسپورٹ پر پابندیوں جیسے اقدامات شامل تھے۔ ا گلے ہی دن ان اضلاع میں تمام تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کر دی گئیں۔ 28 مارچ کو شادی کی تقریبات اور گھروں کے اندر اور باہر اکٹھ پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اسی ہفتے یعنی 5 اپریل کو ہفتے کے اختتام پر بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کر دی گئی جس سے شہروں میں کرونا کے پھیلاو کو روک دیا گیا۔ اپریل 23 کو کرونا کی اموات میں اضافہ ہوتا گیاجس پر وزیر اعظم نے کرونا ایس او پیز لاگو کروانے کے لیے پولیس کی مدد کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا۔ اپریل 30 تک مثبت کیسز کی تعداد 10 فیصد سے کم ہونا شروع ہو گئی۔ اسی طرح مئی 3 تک اموات کی تعداد 130 سے بھی کم رہی۔

پاکستان ابھی تک مشکل سے نہیں نکلا ۔ خاص طور پر حالیہ عید کے اکٹھ وغیرہ تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دو ماہ قبل ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میں بھارت جیسی صورت حال بن سکتی ہے۔بجائے اس کے کہ ہم اپنی فتح کا اعلان کر دیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ دو چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھے، ایک تو مثبت کیسز کی شرح اور دوسرا روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے کیسز کو دستیاب وسائل کے اندر نمٹائے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ویکسی نیشن کا عمل تیز ہو گیا ہے اور آکسیجن کی صلاحیت بھی بہتر ہو گئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ جدید دور میں کسی معجزے سے کم نہیں ہیں۔ اگر این سی او سی نے بروقت اقدامات نہ کیے ہوتے تو پاکستان اپنے مشرقی پڑوسی جیسے حالات کا شکار ہو چکا ہوتا اور ان اقدامات کی بدولت ہی پاکستان کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب سرجیکل درستگی، مختلف ہاٹ سپاٹ کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنا اور پھر سب اہم مکمل لاک ڈاون سے گریز کرنا تاکہ لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔ موجودہ دنیا میں نہ صرف صحت بلکہ آبادی کی معاشی بہتری کا انحصار صرف اس چیز پر ہے کہ آپ کرونا وبا سے کیسے نمٹتے ہیں۔ اس لیے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر نے نہ صرف لاکھوں زندگیوں کو بچایا بلکہ کئی لاکھ افراد کو بےروزگاری سے بھی بچا لیا۔اگرچہ کرونا کے خلاف جنگ ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے تاہم پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

منگل ، 25 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے