سابق اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما چوہدری نثار علی خان جو ایک طویل عرصے سے سیاست سے کنارہ کش دکھائی دے رہے تھے اچانک سامنے آئے ہیںاور تین سال بعد انہیںاس بات کا ادراک ہوا ہے کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اور میدان کھلا چھوڑنا بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی ۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کیلئے لاہور میںموجود ہیں۔ تاہم گزشتہ روز جب وہ حلف اٹھانے لاہور پہنچنے والے ہیں تو اسمبلی حکام کا کہنا ہے کہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں حلف نہیں اٹھایا جا سکتا، ڈپٹی اسپیکر راجن پور اپنے حلقے میں ہیں اور اسپیکر ان دنوں قائمقام گورنر ہیں اب ایسی صورت میں انہیںپینل آف چئیرمین سے حلف لینا ہوگا جو وہ شاید پسند نہ کریں۔ چوہدری نثار علی خان 2018 کے انتخابات میں پی پی 10 راولپنڈی سے آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے تھے مگر انہوں نے ایم پی اے کے طور پر حلف نہیں اٹھایا تھا.
گزشتہ روز اپنے حلقہ کے ووٹرز ،سپورٹرز اور عمائدین کی مشاورت کے بعد انہوں نے حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا اور فیصلے سے باضابطہ طور پر پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیا تھا۔ چوہدری نثار علی خان نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا جس میں اپنے حوالے سے پھیلانے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاتھاکہ موقف نہیں بدلا، حلقے کے عوام کیلئے آج حلف اٹھا رہا ہوں پچھلے چند دنوں سے میرے پنجاب اسمبلی کے حلف اٹھانے کے حوالے سے مختلف خبریں اور کہانیاں گردش کرتی رہیں.چوہدری نثار نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے اس بارے میں نہ تو کوئی بیان دیا اور نہ ہی میرے کسی سیکرٹری یا ترجمان نے اس پر لب کشائی کی مگر اس کے باجود کہانیاں بنتی رہیں. یہ بات درست ہے کہ پاکستانی سیاست میںکہانیاںبنتی رہتی ہیںمگر جس انداز میں وہ اچانک ہی حلف لینے پر آمادہ ہوئے ہیں اور دوسری جانب جہانگیر ترین گروپ متحرک ہے ۔ اس سے لگتا ہے کہ اندر کی کہانی کچھ اور ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان کی سیاست میں صوبہ پنجاب کی سیاست ہمیشہ سے اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اب پنجاب کی سیاست میں چوہدری نثار علی خان کی اچانک انٹری لاہور کے لیے معنی خیز ہے کیونکہ ان کے نزدیک ان کا آنا موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بہتر ہوگا۔ چوہدری نثار ایک گھاگ سیاسی ہیں اور وہ پنجاب کی سیاست پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جو کھچڑی لاہور میں پک رہی ہے وہ اس سے بھی باخبر ہیں لہٰذا یہ حلف صرف ایک حلقے کی نشست بچانے کے لیے نہیں اٹھایا جا رہا ہے بلکہ آنے والوں دنوں میں چوہدری نثار سیاست میں اپنا اہم کردار دیکھ رہے ہیں۔ چوہدری نثار کی آمد نہ صرف عثمان بزدار بلکہ گجرات کے چوہدریوںکے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ چوہدری نثار پر یہ چھاپ ضرور لگی ہوئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیںاور اسٹیبلشمنٹ ان پر اعتبار بھی کرتی ہے۔ جبکہ بیورو کریسی میں چوہدری نثار علی خان اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ مقتدر حلقے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کے پاس صرف دو سال ہیں اگر وہ ان میں ڈیلیور کر سکی تو تب ہی ممکن ہے کہ وہ اگلے انتخاب میں زندہ رہے اور بزدار کی موجودگی میں یہ کسی طور ممکن نظر نہیں آتا۔
چکری کے چوہدری کی واپسی سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے جن میں سب سے اہم چیز ان کی واپسی کی ٹائمنگ ہے ۔ ایک تو بجٹ سر پر ہے اور دوسرا شہباز شریف بھی جیل سےباہر ہیں اور ان دونوں افراد کا آپس میں گہرا اور اچھا تعلق ہے۔ اس لیے اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ چوہدری نثار اور شہباز شریف مقتدرہ اور نواز شریف کے مابین پل کا کردار ادا کریں۔ ۔ ایک بات اور بھی اہم ہے کہ چوہدری نثار مقتدر حلقوں کے بہت قریبی اور اہم آدمی سمجھے جاتے ہیں اس لیے ان کی واپسی سے بزدار کیمپت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف دور میں انہوں نے اپنے لیے وزیر خارجہ کا عہدہ مانگا تھا اور یہ انہوں نے مقتدر حلقوں کی فرمائش پر ہی مانگا تھا مگر میاں صاحب نے انہیں وزارت داخلہ دے دی جس پر وہ خوش نہیں تھے۔ یہ بات تو طشت ازبام ہے کہ اسٹیلبشمنت بزدار سے خوش نہیں ہے اور ان کو ہٹانا چاہتی ہے مگر ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ خود عمران خان ہیں۔ اگر چوہدری نثار علی خان کو پنجاب کے لیے آگے لایا جاتا ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو راضی کیا جائے۔ یہ دونوں جماعتیں بہر حال چکری کے چوہدری سے خوش نہیں ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ عمران خان صاحب کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ چوہدری نثار علی خان کو بطور وزیر اعلی بنا کر فیس سیونگ کریں۔ مگر اس صورت میں سب سے بڑا مسئلہ گجرات کے چوہدریوں کے لیے ہوگا جو بزدار کی آڑ میں پنجاب می حقیقی حکمرانی کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار کی آمد یقینا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے پریشان کن ہوسکتی ہے۔ تاہم دیکھتاہے کہ کیا اس مرتبہ وہ واقعی ڈارک ہارس ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟
منگل، 25 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
