English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت:مشرقی ساحلی علاقوں کو دوسرے شدید طوفان کا سامنا

بھارت کے مشرقی ساحل پر ایک نئے طوفان کے خدشے کے پیش نظر دو ریاستوں کے نشیبی علاقوں سے ہزاروں افراد کو پناہ گاہوں تک منتقل کر دیا گیا ہے۔

بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس دوران 173 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا خدشہ ہے۔ طوفان بدھ کے روز ریاست اڈیسہ اور مغربی بنگال سے ٹکرائے گا۔

بھارت کو ان دنوں کرونا وائرس کی ایک تباہ کن لہر کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے طوفانوں سے نمٹنے کی اس کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ دس دنوں میں یہ بھارت کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے والا دوسرا طوفان ہے۔ اس سے قبل ‘تاؤتے’ نامی طوفان میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کی طوفانوں اور قدرتی آفات سے متعلق قومی ادارے کے ڈائریکٹر ایس این پردھان کے مطابق دونوں ریاستوں کے ساحلی علاقوں سے متاثرہ افراد کے انخلا اور ممکنہ امدادی کارروائیوں کے لئے ہزاروں اہلکاروں کوتعینات کر دیا گیا ہے۔ جب کہ ایئر فورس اور نیوی چوکس ہے۔

بھارتی ریاست اڑیسہ کے ایک ساحلی علاقے میں پولیس ایل کار طوفان کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ 24 مئی 2021

بھارتی ریاست اڑیسہ کے ایک ساحلی علاقے میں پولیس ایل کار طوفان کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ 24 مئی 2021

تیز سمندری لہروں کے خدشے کے پیش نظر ماہی گیروں کے سمندر نہ میں جانے اور کشتیوں کو محفوظ مقامات پر کھڑا کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔

مغربی بنگال میں حکام ہزاروں افراد کو پناہ گاہوں تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ریاست کے کم سے کم بیس اضلاع طوفان کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

گزشتہ سال مئی میں بھارت میں آنے والے طوفان ‘امفان’ میں 100 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ طوفان گزشتہ دس برسوں میں مشرقی بھارت اور مغربی بنگال سے ٹکرانے والا سخت ترین طوفان تھا جس سے بھارت اور بنگلہ دیش کی مشرقی ریاستوں میں بہت سے دیہات بہہ گئے، فصلیں اجڑ گئیں اور لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے تھے۔

تاؤتے: کرونا کے چنگل میں پھنسے بھارتیوں کے لیے ایک اور مشکل





please wait



No media source currently available

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اب تک گزشتہ طوفان کی پھیلائی ہوئی تباہیوں کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے ہیں کہ اب ایک اور طوفان سر پر آن پہنچا ہے۔

ریاست اڑیسہ میں، جو پہلے ہی کرونا وائرس کی شدید لپیٹ میں ہے۔ عہدے داروں نے ساحلی علاقوں سے 15 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

پیر کو ٹی وی کے ایک نشریے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے شیلٹرز میں پناہ لینے والوں سے ڈبل ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ قائم رکھنے کی اپیل کی۔انہوں نے انتظامیہ کو ماسک کی تقسیم یقینی بنانے کی ہدایات بھی دیں۔

نوین پٹنائک کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک ساتھ دو چیلنجز کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے