ویب ٖڈیسک —
بھارت کے مشرقی ساحل پر ایک نئے طوفان کے خدشے کے پیش نظر دو ریاستوں کے نشیبی علاقوں سے ہزاروں افراد کو پناہ گاہوں تک منتقل کر دیا گیا ہے۔
بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس دوران 173 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا خدشہ ہے۔ طوفان بدھ کے روز ریاست اڈیسہ اور مغربی بنگال سے ٹکرائے گا۔
بھارت کو ان دنوں کرونا وائرس کی ایک تباہ کن لہر کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے طوفانوں سے نمٹنے کی اس کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ دس دنوں میں یہ بھارت کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے والا دوسرا طوفان ہے۔ اس سے قبل ‘تاؤتے’ نامی طوفان میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بھارت کی طوفانوں اور قدرتی آفات سے متعلق قومی ادارے کے ڈائریکٹر ایس این پردھان کے مطابق دونوں ریاستوں کے ساحلی علاقوں سے متاثرہ افراد کے انخلا اور ممکنہ امدادی کارروائیوں کے لئے ہزاروں اہلکاروں کوتعینات کر دیا گیا ہے۔ جب کہ ایئر فورس اور نیوی چوکس ہے۔

تیز سمندری لہروں کے خدشے کے پیش نظر ماہی گیروں کے سمندر نہ میں جانے اور کشتیوں کو محفوظ مقامات پر کھڑا کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔
مغربی بنگال میں حکام ہزاروں افراد کو پناہ گاہوں تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ریاست کے کم سے کم بیس اضلاع طوفان کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
گزشتہ سال مئی میں بھارت میں آنے والے طوفان ‘امفان’ میں 100 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ طوفان گزشتہ دس برسوں میں مشرقی بھارت اور مغربی بنگال سے ٹکرانے والا سخت ترین طوفان تھا جس سے بھارت اور بنگلہ دیش کی مشرقی ریاستوں میں بہت سے دیہات بہہ گئے، فصلیں اجڑ گئیں اور لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے تھے۔


No media source currently available
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اب تک گزشتہ طوفان کی پھیلائی ہوئی تباہیوں کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے ہیں کہ اب ایک اور طوفان سر پر آن پہنچا ہے۔
ریاست اڑیسہ میں، جو پہلے ہی کرونا وائرس کی شدید لپیٹ میں ہے۔ عہدے داروں نے ساحلی علاقوں سے 15 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
پیر کو ٹی وی کے ایک نشریے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے شیلٹرز میں پناہ لینے والوں سے ڈبل ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ قائم رکھنے کی اپیل کی۔انہوں نے انتظامیہ کو ماسک کی تقسیم یقینی بنانے کی ہدایات بھی دیں۔
نوین پٹنائک کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک ساتھ دو چیلنجز کا سامنا ہے۔
