English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان کے پڑوسی ممالک امریکا کو فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں، طالبان

القمر

طالبان نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکا کو فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان کی تاریخی غلطی ہوگی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکا، افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے آخری مراحل میں ہے اور حالیہ دنوں میں امریکا اور پاکستان کے مابین سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں نے ان قیاس آرائی کو جنم دیا ہے کہ پینٹاگون طالبان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے نئے اڈوں کی تلاش میں ہے۔

پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے پیر کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوج یا ہوائی اڈہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے، اس حوالے سے متعلق کوئی قیاس آرائیاں بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں اور ان سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں، اگر دوبارہ ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی غلطی ہو گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ اس طرح کی گھناؤنی اور اشتعال انگیز حرکتوں کے بعد خاموش نہیں رہیں گے۔

افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک نے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل میں امریکی فوج کو فضائی اڈوں کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔

اس طرح کی مدد بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے تاہم کچھ ممالک اپنی فضائی حدود کو فوجی پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی اب بھی اجازت دیتے ہیں۔

منگل کے روز حکومت پاکستان نے ایک بار پھر ایسی میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا تھا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کو بتایا کہ یہ خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ایوان میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان اپنی سرزمین پر کبھی بھی کسی امریکی اڈے کی اجازت نہیں دے گا۔

پچھلے سال طالبان اور واشنگٹن کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا جس نے افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی تھی۔

اس کے بدلے میں طالبان نے کہا کہ وہ افغانستان کو القاعدہ اور عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروپ جیسے جہادی گروہوں کا اڈہ نہیں بننے دیں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک باقی تمام ڈھائی ہزار امریکی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔

لیکن امریکی انخلا سے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ کیا افغان حکومت اکیلے طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی فورسز اور طالبان میں روزانہ کی بنیاد پر تصادم ہو رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات التوا کا شکار ہونے کے بعد طالبان مزید علاقے قبضے میں لینے کے لیے اپنی مہم تیز کررہے ہیں۔

افغانستان تک رسائی برقرار رکھنے کیلئے پاکستان، دیگر ممالک سے بات کررہے ہیں، امریکا

امریکا کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور خطے میں موجود دیگر ممالک سے ان کی سرزمین پر فوجی اڈے بنانے کے امکانات سمیت مختلف آپشنز پر بات چیت کررہے ہیں لیکن وہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

کانگریس میں ہونے والی حالیہ سماعت میں امریکی سیکریٹری ہند ۔ بحر الکاہل امور کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے دفاع ڈیوڈ ایف ہیلوے نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ ‘پاکستان نے افغانستان میں ہماری فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی دی’۔

جس کے بعد ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان نے امریکی فوج یا فضائیہ کو کوئی اڈہ نہیں دیا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس حوالے سے جاری قیاس آرائیاں بے بنیاد اور غیر ذمے دارانہ ہیں اور ان سے گریز کیا جانا چاہیے۔

جمعہ (21 مئی) کو ہونے والی سینیٹ کی سماعت جس میں ڈیوڈ ایف ہیلوی نے افغانستان کے لیے فضائی حدود تک رسائی کا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعد ہفتے کے پہلے کاروباری روز یعنی پیر (24 مئی) کو پینٹاگون کی نیوز بریفنگ میں بھی یہی معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا۔

نیوز بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے پوچھا کہ ‘افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد جو کچھ ہوگا اس حوالے سے کیا امریکا، پاکستان سے اس وقت کچھ چاہ رہا ہے؟ انخلا کے بعد خطے میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ممکنہ بیسنگ معاہدوں کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ ہے؟’

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا کہ ‘ہمارے انخلا کے بعد بیرون ملک اڈوں کے امکان کے حوالے سے میرے پاس کوئی خاص اپ ڈیٹ نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ یہ سفارتی بات چیت ہے جو جاری ہے اور واضح طور پر مکمل نہیں ہوئی’۔

پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی صلاحیت کے لیے ہم قابل اعتبار اور قابل عمل آپشنز اور مواقع تلاش کررہے ہیں اور ایسے بہت سے طریقے ہیں جن سے ایسا ہوسکتا ہے، اوورسیز بیسنگ ان میں سے صرف ایک آپشن ہے، لہذا اس حوالے سے ابھی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے۔

پریس سیکریٹری جان کربی نے عندیہ دیا کہ افغانستان تک رسائی کے لیے امریکا، خطے کے دیگر ممالک سے بھی مشاورت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ملک کے حوالے سے زیادہ تفصیل سے بات نہیں کروں گا۔

اس سے قبل ابتدائی بیان میں جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے 24 مئی کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مشترکہ علاقائی مفادات اور مقاصد پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے فون پر بات چیت کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ گفتگو کے دوران امریکی سیکریٹری دفاع نے افغان امن مذاکرات میں حمایت پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور پاک-امریکا دو طرفہ تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات چیت بہت مفید رہی ہے اور اس میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے دو طرفہ مواقع پر بات چیت کی گئی تھی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے