English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان تحریک انصاف کا معاشی سکورکارڈ: شفقنا خصوصی

القمر

پاکستان تحریک انصاف نے تین برس بعد یہ دعوٰی کیا ہے کہ معاشی اعدادو شمار میں بہت زیادہ بہتری آ رہی ہے اور حالیہ مالی سال میں پاکستانی کی اکانومی کا گروتھ ریٹ 94۔3 فیصد رہے گا۔ حکومت کے اس دعوے کو تجزیہ نگاروں اور مخالف سیاسی جماعتوں نے حیرت سے دیکھا کیونکہ دنیا کے تمام بین الاقوامی اداروں بشمول ورلد بینگ اور آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا گروتھ ریٹ بمشکل ایک سے ڈیڑھ فیصد تک رہے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتی دعووں میں کس قدر سچائی ہے اور کیا واقعی پاکستان کی شرح نمو چار فیصد تک جائے گی یا نہیں؟ جس وقت پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں ائی تھی اس وقت پاکستان کی شرح نمو 5 فیصد کے قریب تھی اور اس کی جی ڈی پی کا پھیلاؤ 314 بلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ جب کہ فی کس آمدن تقریبا 1600 ڈالر تھی۔ تاہم یہ تمام اعدادو شمار نصف کہانی سناتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی معاشی ٹیم جس کی سربراہی اسحاق ڈار کر رہے تھے ہمیشہ سے اس طرح کے اعدادو شمار بتائے جن کی بنیادیں نہایت کمزور تھیں۔

مسلم لیگ نواز کی معاشی ٹیم نے کرنسی کی ویلیو بلند رکھی تاکہ روپے کو مضبوط پوزیشن میں پیش کیا جا سکے۔ اس بات کی وضاحت مؤثر ایکسچینج ریٹ سے کی جاسکتی ہے ۔ اس طرح مسلم لیگ ن نے بین الاقوامی اثاثہ جات کو اڑانے کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی کم کرنے پر کوئی توجہ نہ دی۔ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار حکومت اپنے ابتدائی ایام میں عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض لینے میں کامیاب نہ ہوپائی جس کی وجہ سے ان کی نااہلی کا بیانیہ شہرت پاتا گیا۔ عمران خان کی حکومت نے ایکسچینج ریٹ میں بھاری پیمانے پر ایڈجسٹمنٹس کیں جس سے نہ صرف افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا بلکہ جی ڈی پی کے ساتھ ساتھ فی کس آمدنی میں بھی کمی دیکھی گئی۔ بالاخر عالمی مالیاتی فنڈ سے پروگرام طے پاگیا اور اس کو لاگو کر دیا گیا جس سے معیشت کی بنیادوں میں کچھ بہتری آئی تاہم یہ سب عام شہری کی ضروریات زندگی کی قیمت پر ہورہا تھا۔ لوگوں کی حقیقی آمدن میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوگئیں جس کی بڑی وجہ شرح سوچ میں اضافہ تھا۔

ابھی یہ صورتحال جاری تھی کہ کرونا وبا میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا  اور لاک ڈاون کی وجہ سے گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی معیشت جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔ جس سے پاکستانی معیشت 38۔0 فیصد تک سکڑ گئی ۔ 2021-2020 کے بجٹ میں وزیر خزانہ نے پاکستان کی معیشت میں 1۔2 فیصد تک اضافے کی توقع ظاہر کی ہے ۔ تاہم عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کی معیشت 5۔1 فیصد تک جانے کی توقع ہے اور عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت 1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ تمام تر مسائل کے باوجود، حکومت کی معاشی مینجمنٹ نے شرح نمو کو اوپر تک لایا ہے جس کی واضح مثالیں زراعت، انڈسٹری اور سروسز سیکٹر کی نمو میں بالترتیب 77۔2 فیصد، 57۔3 اور 34۔4 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جی ڈی پی 263 بلین ڈالر سے بڑھ کر 296 بلین ڈالر تک جا پہنیچ ہے۔ جب کہ فی کس آمدن میں بھی 13 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فی کس آمدن 1361 ڈالر سے بڑھ کر 1541 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اگر درست انداز میں تجزیہ کیا جائے تو پاکستان مسلم لیگ نواز کا یہ دعوی کا اس نے ایک بہترین معیشت چھوڑی تھی اور پھر   تحریک انصاف پر یہ الزام کہ وہ بروقت عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس نہیں گئی کھلا تضاد ہے۔ کیونکہ اگر معیشت بہترین انداز میں آگے بڑھ رہی تھی تو پھر تحریک انصاف کو عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جانے کا مشورہ کیوں دیا گیا؟ دوسری چیز کہ پاکستان تحریک انصاف پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے روپے کی قدر میں بہت زیادہ کمی کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور کے آخری چھ سے آٹھ ماہ کے دوران روپے کی قدر 20 فیصد سے گر چکی تھی۔ مزید برآں مسلم لیگ ن کا یہ دعوی کہ ان کے دور کی نسبت تحریک انصاف کے دور میں فی کس آمدن اور جی ڈی پی بہت گر گئی ہے ممکن ہے درست ہو لیکن یہ درست نہیں کہ آپ ان اشاریوں کا تقابل روپے اور ڈالر کے تقابل سے منسلک کریں۔ اگر روپے کو مارکیٹ کی بنیاد پر قریب رکھا جاتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوگی۔

اگر تصویر کا دوسرا رخھ دیں تو معیشت میں چار فیصد اضافہ درحقیت لو بیس ایفیکٹ کی وجہ ہے جو کہ مثبت کرنٹ اکاوںٹ بلینس کے ساتھ ہی وجود میں آتا ہے نہ مارکیٹ بیسڈ روپے کی وجہ اور بین الاقوامی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی قابل تعریف ہے۔ اس وقت پاکستان کی برآمدات جولائی سے اپریل تک 9۔20 بلین ڈالر تک رہیں جو بڑھ کر 25 بلین ڈالر تک جا پہنچیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سے بیرون ممالک سے ترسیلات زر میں بے بہا اضافہ ہے جو ہر ماہ دو بلین ڈالر سے اوپر تک جا پہنچے ہیں۔

اب یہ پاکستان تحریک انصاف پر منحصر ہے کہ آیا وہ اپنی سخت محنت سے معیشت کو درست طریقے سے چلاتی ہے یا پھر سابقہ حکومتوں کی طرح محض بلند شرح نمو کے لیے سمجھوتہ کرتے ہیں۔ نئے وزیر خزانہ شوکت ترین کے بیان سے یہ لگ رہا ہے کہ حکومت سیاسی مفادات کے لیے معیشت پر سمجھوتہ کرے گی اور معیشت کو 5 فیصد تک لے کر جائے گی۔

جمعرات، 27 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے