ویب ڈیسک —
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سین ہوزے میں قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ریلوے کی ایک ورکشاب میں ایک ملازم نے فائرنگ کر کے 9 ساتھیوں کو ہلاک کر دیا اور پولیس کے پہنچتے ہی خودکشی کر لی۔ اس سانحہ میں کئی کارکن زخمی بھی ہوئے۔
سینٹا کلارا کے شیرف آفس کے ترجمان رسل ڈیوس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 911 کو اطلاع ملنے پر جب وہ موقع پر پہنچے، مسلح کارکن فائرنگ سے اپنے کئی ساتھیوں کو ہلاک اور زخمی کر چکا تھا اور اس نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،دو پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کی شناخت 57 سالہ سیموئیل کیسیڈی کے طور پر کی ہے، جو اسی ریل یارڈ میں 2012 سے ملازم تھا۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق،ممکنہ طور پر واقعہ ایک میٹنگ کے دوران پیش آیا، مگر فائرنگ کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
سین ہوزے میں واقع ویلی ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی کے قریب ریل گاڑیوں کی ورکشاپ میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب فائرنگ کی اطلاع ملی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کی۔
لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے اپنی صبح کی شفٹ میں اپنے زیادہ تر ساتھیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہ سال 2021 میں امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر شوٹنگ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
تفتیش کار ابھی تک یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے اور کس چیز نے اسے اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ کیسڈی نے صرف اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنایا اور پولیس پر کوئی فائر نہیں کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص نے پہلے اپنے گھر کو آگ بھی لگائی۔ زخمی افراد میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

چیئرمین وی ٹی اے بورڈ گلین ہینڈرکس نے ایک نیوزکانفرنس میں اسے ایک ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمدریاں اور دعائیں وی ٹی اے کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
سین ہوزے کے میئر سیم لکارڈو نے اس واقعہ کو ایک تاریک لمحے کا نام دیا۔
وائٹ ہاؤس کی ایک نیوز بریفنگ میں ڈپٹی پریس سیکرٹری کیرین جین پیری نے کہا کہ وائٹ ہاؤس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن مدد کی پیشکش کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں صدر بائیڈن نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ گن وائلنس کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی پر کام تیز کیا جائے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "گولی سے جانے والی ہر جان ہماری قوم کی روح میں چھید کر دیتی ہے۔ ہمیں مزید کام کرنا ہوگا اور ہم ایسا کر سکتے ہیں”
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور امریکی روزنامے یو ایس اے ٹوڈے نے نارتھ ایسٹرن یونیوسٹی کے تعاون سے پچھلے پندرہ سال کے دوران امریکہ میں پیش آنے والی ماس شوٹنگز کے واقعات کے اعدادو شمار جمع کئے ہیں، اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ سین ہوزے میں پیش آنے والا واقعہ 2021 کے دوران امریکہ میں ماس شوٹنگ کا 15واں واقعہ ہے۔
2021کے دوران فائرنگ کے ایسے واقعات میں 86 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2020 کے دوران یہ تعداد 106 تھی۔
ریاست کیلی فورنیا کا شہر سین ہوزے تقریباً دس لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، جو سان فرانسسکو کے ساحلی علاقے میں واقع ہے۔ اسے ٹیکنالوجی کی ایجادات و اختراعات اور بڑی کمپنیوں کے عالمی مرکز کا ایک اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔
