امریکی صدر جو بائیڈن نے ملکی خفیہ ایجنسیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بارے میں انہیں تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کریں کہ آیا کورونا وائرس کا آغاز چین میں کسی جانور سے ہوا یا ایسا وہاں کسی لیبارٹری میں حادثے کے سبب ہواہے۔
بائیڈن کے مطابق، خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہےجس میں کہا گیا ہے کہ چینی شہر ووہان کے انسٹیٹیوٹ میں سال 2019 میں متعدد جائزہ کار بیماری کے بعد اسپتال میں داخل کیے گئے تھے، اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد صدر جو بائیڈن کو وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق مزید تحقیقات کے لیے شدید عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے خفیہ ایجنسیوں کو کورونا وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق پتہ لگانے کے لیے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
