English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سری نگر میں ہزاروں غیر مقامی مزدور شدید مشکل میں

lockdown impact non local labourers

کورونا وائرس coronavirus کے پھیلاؤ کے سبب جاری لاک ڈاؤن lockdown کی وجہ سے جموں و کشمیر میں موجود ہزاروں غیر مقامی مزدوروں non local labourers کو مشکل ترین وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے سبب جموں و کشمیر میں موجود ہزاروں غیر مقامی مزدور ان دنوں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

اگرچہ کورونا وائرس coronavirus کی وجہ سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے مگر اپنے گھروں سے ہزاروں کلومیٹر دور کام ڈھونڈنے کے لیے نکلے یہ مزدور اپنے مستقبل کے تعلق سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت و افلاس نے انہیں پہلے ہی اپنے گھروں سے دور مزدوری کرنے کے لیے ڈھکیل دیا تھا اور اب وہ یہاں مزدوری کرکے پیسہ کما کر گھر بھیجتے تھے لیکن کورونا وائرس کی وبا اور اس سلسلے میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ مزید پیچھے چلے گئے ہیں۔ ادھر گھر والے بھی پریشان ہیں۔ انہیں گزشتہ سال بھی اسی طرح کافی مشکل حالات سے گزرنا پڑا۔

القمرآن لائن کے مطابق جموں و کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں غیر مقامی مزدور non local labourers ملک کے مختلف شہروں سے یہاں مزدوری کرنے کی غرض سے ہر سال آتے ہیں۔ تاہم رواں سال ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے انہیں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ادھر ان مزدوروں میں سے بیشتر افراد کے پاس پیسے اور کھانے پینے کی اشیاء ضروریہ ختم ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے وہ مزید مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔

بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جو بھی رقم تھی وہ دھیرے دھیرے ختم ہوگئی اور اب وہ محتاجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ وہ جس امید کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ اس پر لاک ڈاؤن نے پانی پھیر دیا ہے۔

ایک اور مزدور ایک ماہ قبل کام کرنے کی غرض سے سری نگر آیا تھا۔ تاہم لاک ڈاؤن نے اس کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا اور اب اسے بے بسی اور مجبوری کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ہے۔

القمرآن لائن کے مطابق جب گزشتہ سال کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا تو اس وقت حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے بھی سری نگر اور دیگر اضلاع میں پھنسے ان ہزاروں مزدوروں کی امداد کی گئی تھی اور انہیں راشن و دیگر اشیائے خوردنی بھی فراہم کی گئی تھی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی انہیں کھانے پینے کی اشیاء کی صورت میں مدد کی جائے تاکہ انہیں فاقہ کرنے کی نوبت نہ آ جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے