English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترک خفیہ ایجنٹوں کا ملک سے باہر آپریشن، فتح اللہ گولن کے بھتیجے گرفتار

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ ملکی خفیہ دارے کے ایجنٹوں نے ملک سے باہر ایک کارروائی کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم مسلمان عالم فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کو ترکی لے آئے ہیں جہاں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

گرفتار ہونے والے صلاح الدین گلن ایک دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم کی نمائندگی پر ترکی کو مطلوب تھے جن کو اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی کے خفیہ ادارے ایم آئی ٹی نے ایک آپریشن میں گرفتار کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، پیر کو سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ صلاح الدین گلن کو کہاں سے گرفتار کیا گیا اور انہیں کب ترکی واپس لایا گیا۔ تاہم خیال ہے کہ فتح اللہ گولن کے بھتیجے کینیا میں مقیم تھے۔

گلن تحریک سے وابستہ افراد کی بیرون ممالک سے گرفتاریوں کے سلسلے کی یہ تازہ ترین کڑی ہے۔ ترک حکومت گولن تحریک پر سال 2016 میں ملک کے اندر ناکام فوجی بغاوت کا الزام دیتی ہے۔

ترکی امریکہ کے لیے کتنا اہم ہے؟





please wait



No media source currently available

فتح اللہ گولن ترک صدر رجب طیب اردوان کے سابق اتحادی ہیں جو ان دنوں امریکہ کی ریاست پنسلوینیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے ترکی میں فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کر رکھی ہے۔

ترکی نے ان کے نیٹ ورک کو ’’ فتح السٹ ٹیرر آرگنائزیشن‘‘ یا ’’ فیٹو‘‘ کا نام دیتے ہوئے دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

ترک صدر نے مئی کے شروع میں کہا تھا کہ حکومت مخالف گلن نیٹ ورک کے ایک سرکردہ رکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی تھی۔

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد شہریوں کی پکڑ دھکڑ کے خلاف استبول میں ایک مظاہرہ (فائل فوٹو)

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد شہریوں کی پکڑ دھکڑ کے خلاف استبول میں ایک مظاہرہ (فائل فوٹو)

15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے اندر سے ایک دھڑے نے ٹینکوں، جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اردوان حکوت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ جنگی طیاروں نے دارالحکومت کے اندر پارلیمنٹ اور دیگر جگہوں پر بم گرائے تھے۔ اس موقع پر صدر اردوان کے مطالبے پر ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اس بغاوت کو ناکام بنا دیا تھا۔

اس ناکام بغاوت میں 251 افراد ہلاک اور 2200 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ بغاوت کی منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر ملوث 35 افراد بھی اس واقعے میں مارے گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے