میں نے الفیوس میں واقع زیوس کا مجسمہ،بابیل کی مشہور دیواریں اور باغ سمیت مشہور سورج کا مجسمہ بھی دیکھا۔اس کے علاوہ ہم نے بلند و بالا پائرامڈز اور موسولوس کی یادگار بھی دیکھی مگر جو بات آرتیمیس کے بادلوں پر بنے گھر کی ہے وہ دیگر تمام عجائبات اور تاریخی شاہکار میں نہیں ملتی اور تمام شاہکار اس کی آبو تاب میں کھو جاتے ہیں۔
سیدون کے پدر کے یہ الفاظ ہیں جو اس نے دنیا کے سات عجائبات میں شمار آرتیمس کی عبادت گاہ کےلیے کہے تھے۔سیدون کے پدرنے قدیم دور میں سیاحت کے دوران ایسے تاریخی مقامات کی سیر کی اور دنیا کے سات عجائبات پر کتاب لکھ ڈالی۔اس نے اپنی کتاب میں فن معماری کے ان شاہکاروں کو دیکھنے کی ترغیب دی۔ اس کے اس خیال کو پہلی بار ہیریدوت نے واضح کیا مگر اس نے دنیا کے ان سات عجائبات کا نہ تو ذکر اپنی کتاب میں کیا اور نہ ہی ان کےبارےمیں کچھ کہا۔ قدیم دور کی اس مشہور زمانہ فہرست کی ترتیب کے لیے بازنطینی فیلون کی کوششیں سرگرم عمل رہیں۔وہ بھی اس عبادت خانے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔
اس کے بقول ، قدیم بابیل قو کی طرز معماری اور موسولوس کا مزار میں نے دیکھا مگر ان کی حیثیت بادلوں تک بلند و بالا ایفیس کے اس عبادت خانے کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔
وہ دور توکجا آج بھی اس کی تصاویر دیکھنے والے انسان حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔
قدیم دور کے سات عجائبات میں کیوپس کے اہرام، بابیل کے باغیچے،زیوس کا مجسمہ،رودوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا لائٹ ہاوس، شاہ موسولوس کا مزار اور ایفیس کا آرتیمیس عبادت خانہ قابل ذکر ہیں۔ ان شاہکاروں میں انسان کی خیالی طاقت،اس کا فن معماری اور محنت و لگن صاف جھلکتی ہے۔ اس دور میں امکانات کی کمیابی کے باوجود اس طرح کی طرز تعمیر کو ممکن بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
قدیم دنیا کے سات عجائبات میں سے مصر کے کیوپس کے اہرام اب تک اپنے پیروں پر کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ باقی ماندہ قدرتی آفات اور انسانی عدم توجہ کی بدولت اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ہیں۔ قدیم دور کے مصنفین کی تحاریر سے آج کا انسان ان عمارتوں کے رقبے اور ان کی تعمیرات کے حوالے سے جاننے کی کوشش کرتا ہے اور جو دنیا پر یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر انسان چاہے تو کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔
اناطولیہ ان سات عجائبات میں سے دو کی میزبانی کرتا ہے ایک شاہ موسولوس کا مزار یعنی ہالی کارناس اور دوسرا آرتیمیس کا معبد، یہ معبد ضلع ازمیر کے قصبے سلجوک میں واقع ہے جس کی ابتدائی تاریخ پیتل کے دور سے ملتی ہے۔ یعنی گیار سو سال قبل مسیح سے قبل یہ معبد عبادت کے لیے مصروف تھا۔ ایفیس کا قدیم شہر تجارتی لحاظ سے ایک اہم مرکز شمار کیا جاتا تھا،وہاں پر لکڑی اور پتھروں کی مدد سے ایک بڑا سا معبد تعمیر کیا جاتا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ ایفیس ایک مصروف ساحلی شہر میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک اہم موڑ ثابت ہوتا ہے۔لیدیا کے شاہ کورسوس کے ایفیس پر قبضے کے بعد جنگ کی وجہ سے خراب ہونے والے اس معبد کی دوبارہ تعمیر کی گئی جس کے لیے مالی امداد کافی کی گئی۔ سفید سنگ مر مر اور سو سے زائد ستونوں سے آراستہ یہ معبد ماضی کے مقابلے میں چار گنا مزید وسیع بنایا گیا ۔بحیرہ روم کے سیاسی و تجارتی مراکز میں شمار اس معبد میں متعدد مجسمے بھی ہیں جن میں سب سے مشہور اور منفرد آرتیمیس کا مجسمہ ہے جسے ہاتھی دانت اور سونے سےتراشا کیا گیا تھا۔
یہ مجسمہ برکت ،زرخیزی اور نسلی فراوانی کی علامت ہے ۔آرتیمیس کی دیوی کا مجسمہ کافی جاذب نظر ہے جس کے سر پر تاج ہے اور اس کےلباس پر ہرنوں، شیروں اور شہد کی مکھیوں کی شبیہات نظر آتی ہیں۔آرتیمیس کی دیوی کا مجسمہ اناطولیہ کی ایک دیگر دیوی کیبیلہ کے مقابلےمیں مشابہہ بھی دکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایفیس کا آرتمیس کا معبد تباہ ہونےکے باوجود کئی بار دوبار ہ تعمیر کروایا گیا ۔
قدیم دور میں لیدیا کے سیاح اور ماہر جغرافیہ پاسانیاس نے آرتیمیس کے بارے میں کچھ یوں کہا ہے کہ تمام شہر ایفیس کے آرتیمیس کی عبادت کرتے ہیں اور تمام انسان اسی وجہ سے اس مقام کو تمام خداوں سے ممتاز رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں اس معبد کا وسیع و عریض احاطہ ایفیس شہر کی اہمیت میں اضافے کا بھی باعث بنا۔
دینی و تجارتی لحاظ سے آرتیمیس کا معبد ایک اہم مرکز رہا جہاں ہر جگہ سے زائرین آتے تھے، قربانی دیتے تھے اور خرید و فروخت میں مصروف رہتے تھے۔ایک عرصہ گزرنے کے بعد ایک جنونی شخص نکلتا ہے اور اس معبد کو تباہ کر دیتا ہے جس سے ایفیس کے باسیوں میں غصے کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ اس شخص کو سخت سزا دیتے ہیں اور اس کی موت کا اعلان کر دیتے ہیں ۔اس شخص کا نام نیرون کی طرح ہیروستراتوس تھا جس کا نام بعد میں شہرت کے بھوکے افراد کی بیماری ہیروستراتیک کے نام سے منسو ب ہوا۔
آگ لگنے کے بعد آرتیمیس کا معبد کافی تباہ ہو جاتا ہے جس پر ایفیس کے باسی کافی افسردہ ہو جاتے ہیں مگر دوسری جانب ان کا دیو ی پر اعتبار کم ہو جاتاہے۔ان کا خیال تھا کہ ان کی زندگیوں،مال و جائیداد کو ہم جس دیوی کے بھروسے امانت رکھواتے تھے وہ اپنی ہی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔البتہ روایت ہے کہ دیوی آرتیمیس سکندر اعظم کی پیدائش کی نوید سنانے کے لیے معبد سے رخصت ہو گئی تھیاسی وجہ سے وہ آگ بجھانے میں ناکام رہی تھی ۔ اس معبد کی تعمیر فوری شروع کر دی گئی جسے اب کی بار پہلے کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ بڑا تعمیر کیا گیا ۔یہ معبد تاریخ بھر سات بار گرا اور دوبارہ بنوایا گیا ۔
دنیا میں اب ایک نیا دین مسیحیت پھیلنا شروع ہوگیا تھا جس پر ابتدائی دور میں کافی اعتراضات ہوئے مگر چوتھی صدی عیسویں میں بالاخر ایفیس میسحیت کو قبول کر لیتا ہے جس کے بعد آرتیمیس کو مکمل طور پر منہدم کیا جاتا ہے، شہر کا فاصلہ سمندر سے دور ہوجاتا ہے اور وہ اپنی عظمت کھو دیتا ہے۔
قدیم دور کے اہم مراکز میں شمار رومی سلطنت کا ایشیائی صدر مقام ایفیس رہا ہے جو کہ اپنی دو لاکھ افراد پر مشتمل آبادی اور طرز معماری روم کے ہم پلہ رہا ہے۔ اس علاقے میں حطیطی،ہیلینک،رومی اور ترکوں نے بسیرا کیا۔مختلف تہاذیب اور عقائد کی میزبانی کا شرف اسے حاصل رہا۔قدیم دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک آرتیمیس کا معبد، اسکندریہ اور برگامہ کے بعد قدیم دور کے اہ ترین کتب خانوں میں شامل سیلساس اور ایک بڑے تھیٹر کی بدولت یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ایفیس کے اس تاریخی شہر میں سینٹ جان نے انجیل کو تحریر کیا اور میسحیوں کے مطابق، حضرت مریم کی وفات بھی یہاں ہوئی تھی۔ایفیس کی تاریخ مذہبی و معماری لحاظ سے ایک اہم شہر کی ترجمانی کرتی ہے۔
دور حاضر میں آرتیمیس کے معبد کی جگہ صرف ایک سنگ مرمر کا ستون باقی بچا ہے۔ تاریخ بھی لوٹ مار، قدرتی آفات اور تباہیوں کا سامنا کرنے والے اس معبد کا اب ایک یہی ستون ہے جو کہ ہمیں نظر آتا ہے۔اگر آپ کا ایفیس جان ہو تو اس معبد کی باقیات ضرور دیکھیں اور اپنی خیالی قوت کو آزاد کر کےاس دور میں کھو جائیں کیونکہ ایفیس کا تاریخی شہر وہاں آپ کو اپنی تمام آبو تاب کے ساتھ ملے گا۔
