ویب ڈیسک —
امریکہ کی 63 فی صد آبادی نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوا لی ہے، جب کہ امریکہ میں انتظامیہ کی بھرپور ویکسین مہم کی وجہ سے 40 سال سے زائد عمر کے 72 فی صد افراد کو کرونا ویکسین لگانے کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ 20 جنوری کے بعد سے امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں 90 فی صد اور کرونا سے ہونے والی اموات میں 85 فی صد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اگر کسی نے ویکسین نہیں لگوائی تو وہ کرونا وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے یا کسی دوسرے کو وائرس منتقل کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ آج صدر بائیڈن ‘آل آف امریکہ سپرنٹ’ کے نام سے ایک مہینے تک جاری رہنے والی بھرپور مہم کا اعلان کر رہے ہیں، جس کے تحت چار جولائی، امریکہ کے یوم آزادی تک، زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو ویکسین لگوانے پر آمادہ کرنا ہے۔
جین ساکی کا کہنا تھا کہ اس ملک گیر مہم کے لئے کمیونٹی لیڈرز، مذہبی رہنماؤں، کاروباری اداروں، مشہور شخصیات، ایتھلیٹس، تعلیمی اداروں اور ہزاروں رضاکاروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو ویکسین لگوانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کی مدد سے والدین کو ویکسین لگوانے کے دوران بچوں کی دیکھ بھال کی سہولت بھی مفت فراہم کی جائے گی۔


No media source currently available
ایشیا بحرالکاہل خطے میں مہاجرین کو ویکسین کے حصول میں مشکلات
ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل خطے میں کووڈنائنٹین سے بچاؤ کی ویکسین کی قلت کے باعث لاکھوں مہاجرین اور پناہ گزینوں کو عالمی وبا کی نئی لہر کے دوران جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق خطے میں کرونا وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کو اپنی اپنی ویکسینیشن مہم میں شامل کریں گے لیکن معروضی حقائق بتاتے ہیں کہ وہاں ویکسین کی شدید قلت ہے۔
اس لیے ان ممالک نے ایسے لوگوں کو، جو پہلے ہی سے قومی دھارے سے باہر ہیں، انہیں ویکسین لگانے کے عمل میں سب سے آخر میں رکھا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایشیا بحرالکاہل میں گزشتہ دو ماہ میں کووڈ نائنٹین کے تین کروڑ 80 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ پانچ لاکھ افراد اس موذی مرض سے اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
خٓطے میں مہاجرین اور پناہ گزین عام طور پر تنگ جگہوں پر رہتے ہیں، جہاں ضفائی ستھرائی کا مناسب ماحول میسر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں کووڈ نائنٹین لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان آندرے ماہسک نے بتایا کہ بنگلادیش کے کاکسز بازار میں رہنے والے روہنگیا مہاجرین کے کھچا کھچ بھرے کیمپوں میں اپریل کے بعد کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
مئی کے اختتام تک 1188 مہاجرین میں کووڈ نائنٹین کی تشخیص ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نیپال، پاکستان، ایران، تھائی لینڈ، ملایشیا اور انڈونیشیا میں مہاجرین اور پناہ گزینوں میں بھی اس مرض کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یورپی ملکوں میں ویکسین سرٹیفکیٹس کا نظام
ادھر یورپ میں جرمنی اور یونان سمیت سات ممالک نے مسافروں کے لیے ویکسینشن سرٹیفیکیٹ کا نظام متعارف کرایا ہے جو پوری یورپی یونین کے خطے میں یکم جولائی سے نافذالعمل ہو گا۔
یورپی یونین کے 27 میں سے دیگر ایسے ممالک جو مقررہ تاریخ سے قبل ہی اس نئے نظام کو متعارف کروا رہے ہیں، ان میں بلغاریہ، چیک ری پبلک، ڈنمارک، کرویشیا اور پولینڈ شامل ہیں۔
یہ سرٹیفیکیٹس ان لوگوں کو جاری کیے جائیں گے جو مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہیں، یا وہ کووڈ نائنٹین کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں یا وہ لوگ جو سفر کرنے سے 72 گھنٹے قبل کرونا کا منفی ٹیسٹ پیش کریں گے۔
یہ سرٹیفیکیٹ الیکٹرانک اور کاغذ دونوں اشکال میں جاری کیا جائے گا اور اس پر ملکوں کو قومی زبانوں کے علاوہ انگریزی میں تحریر کیا جائے گا۔ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے افراد یورپی یونین کے تمام ممالک میں سفر کرنے کے مجاز ہوں گے۔

