قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز میں 3 ون ڈیز، 2 ٹیسٹ اور 8 ٹی 20 میچز کھیلنے کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
اس ضمن میں جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق حارث سہیل کی ون ڈے، عماد وسیم کی ٹی 20 میچز جبکہ محمد عباس اور نسیم شاہ کی ٹیسٹ میچز کے اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں مڈل آرڈر بیٹسمین اعظم خان کو پہلی مرتبہ قومی ٹی 20 ٹیم جبکہ سلمان علی آغا کو ون ڈے ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ون ڈے اسکواڈ: بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، عبداللہ شفیق، فہیم اشرف، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حارث سہیل، حسن علی، امام الحق، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، سلمان علی آغا، سرفراز احمد، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر۔
ٹی 20 اسکواڈ: بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، ارشد اقبال، اعظم خان، فہیم اشرف، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی، عماد وسیم، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شرجیل خان، عثمان قادر
ٹیسٹ اسکواڈ: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان (نائب کپتان)، عبداللہ شفیق، عابد علی، اظہر علی، فہیم اشرف، فواد عالم، حارث رؤف، حسن علی، عمران بٹ، محمد عباس، محمد نواز، نسیم شاہ، نعمان علی، ساجد خان، سرفراز احمد، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، شاہنواز دھانی، یاسر شاہ(فٹنس سے مشروط)، زاہد محمود
ٹیسٹ ٹیم مستحکم ہے، محمد وسیم
بعدازاں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف سیلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ فٹنس بہتر ہونا انتہائی اہم ہے لیکن ساتھ ہی اسکواڈ کی سلیکشن میں ٹیم کی ضرورت کو بھی مدِنظر رکھا گیا۔
عماد وسیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں ورلڈ کپ ہونے کا امکان ہے اور عماد وسیم کی کارکردگی یو اے ای میں بہت اچھی رہی ہے اس لیے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا۔
ڈومیسٹک کھلاڑیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محمد وسیم نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم مستحکم ہے اور اچھی کارکردگی والے کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں جن کی درجہ بندی ہم نے کی ہوئی ہے۔
کھلاڑیوں کی کارکردگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم مستحکم ہوجائے، کوئی بھی ٹیم ورلڈکپ سے پہلے 100 فیصد تیار نہیں ہوتی ایک سے 2 سلاٹ ایسے ہوتے ہیں جن پر دوبارہ غور کیا جاتا ہے اور آگر آئندہ ٹوور سے وہ سلاٹس پُر نہ ہوئے تو پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کی کارکردگی دیکھی جائے گی۔
شعیب ملک اور محمد حفیظ کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان دونوں سے بات چیت جاری ہے لیکن مجھے یا کسی اور کو کسی کھلاڑی کے کیریئر کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے لیکن اس وقت جو بہتر آپشنز موجود تھے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
منبع: ڈان نیوز
