افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا طے شدہ شیڈول سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔ ساتھ ہی افغانستان میں دہشتگرد کارروائیاں بھی تیز ہوچکی ہیں۔ اگرچہ طالبان تازہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور افغان شہروں اور قصبوں پر کابل انتظامیہ کا کنٹرول ابھی برقرار ہے لیکن دیہی علاقوں میں طالبان کی گرفت بدستور مضبوط ہے۔ سابق صدر بش جونیئر، سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن، کنڈولیزا رائس، سابق ڈائریکٹر سی آئی اے ڈیوڈ پٹریاس سمیت امریکا کے اہم سیاستدان فوجی انخلا کے فیصلے اور اس کے بعد افغان فورسز کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی اور ہمسایہ ملکوں میں مہاجرین کے نئے سیلاب کے خدشات منڈلانے لگے ہیں۔ کابل انتظامیہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھنے کے بجائے اسلام آباد اور کابل کے درمیان نئی تلخیاں جنم لے چکی ہیں اور خطے میں امریکا کے نئے فوجی اڈوں کے امکانات پر طالبان بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو عدم استحکام کو مزید گہرا کرسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو کی فوجوں کے انخلاء پر چند دن قبل امریکی وزارتِ دفاع میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کا افغانستان میں دوبارہ فعل ہو جانے کا امکان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ امریکہ کے مقتدر ترین جریدے نیو یارک ٹائمز نے اس بریفنگ کی خبر میں کہا تھا کہ امریکہ کے مشرق وسطی میں اعلی ترین فوجی کمانڈر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سال گیارہ ستمبر تک افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد امریکہ کی فوج کے لیے افغانستان میں القاعدہ جیسے دہشت گردی کے خطروں پر نظر رکھنا اور ان کا تدارک کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ افواج اور سازو سامان کی تیزی سے واپسی کے باوجود امریکا نے ابھی تک انخلا کے بعد کی حکمتِ عملی واضح نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پینٹاگون ابھی تک پالیسی تیار کرنے میں مصروف ہے اور جون کے وسط تک پالیسی صدر بائیڈن کی میز پر پہنچنے کے امکانات ہیں۔
افغانستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے امن کی امید تو کی جا سکتی ہے لیکن اس امید کے بر آنے کے آثار موجود نہیں ہیں۔ امریکہ طالبان کے ساتھ ہونے والے جس معاہدے کے تحت افغانستان چھوڑ رہا ہے، اسی میں یہ طے ہوا تھا کہ بین الافغان مذاکرات میں مستقبل کے سیاسی حکومتی نظام کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ہوئے پندرہ ماہ بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک بین الافغان مذاکرات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے۔ فی الوقت تو یہ تعطل کا شکار ہیں لیکن جس مدت کے دوران فریقین یعنی افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کی قیادت نے بات چیت کی کوشش کر رہی تھی تو بھی غیر ضروری امور پر کھینچا تانی تک ہی معاملہ محدود رہا تھا۔ اس اہم ترین سوال پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی کہ امریکی افواج نکل جانے کے بعد ملک کے سب فریق کیسی عبوری حکومت پر متفق ہوں گے اور اس کے لئے کون سی آئینی بنیاد فراہم ہوگی۔
وزیر اعظم عمران خان کے بعد اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کی صورت حال کو پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے اہم قرار دیا ہے۔ افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں یہ تشویش بجا اور قابل غور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت یا ملک کی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ نے اس خطرہ سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں۔ اور قوم کو کس حد تک ان خطروں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ کابل انتظامیہ میں پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہے جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا اور پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے ساتھ رابطوں اور کام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔ اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔
دراصل یہ بھارت نواز سیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دار ہیں۔ بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔ بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔ پاکستان ان خطرات کے لیے طالبان کو فوقیت دے رہا ہے اور بیک وقت طالبان اور امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستانی انتظامیہ اس بات سے قطعی بے خبر ہے کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تو اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑے گا اور پاکستان کو 1980 والے عہد کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے۔ پاکستان بیک وقت امریکہ اور طالبان کو مطمئن اور خوش نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ابہام دور کرنا ضروری ہے۔ اس تاثر کو ختم کرنا اہم ہے کہ پاکستان بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہونا چاہتا ہے۔
جمعتہ المبارک، 4 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
