English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیشنل بینک وقفہ اور پرائیویٹ بینکس کی بغیر وقفہ سروس، سرکاری ملازم کام چور کیوں؟

رپورٹ این آر
پاکستان کے سرکاری مالیاتی ادارے ہوں یا دیگر ادارے سب کے کام کرنے کا ڈھنگ ہی نرالا ہے۔ سرکاری اداروں
کے ملازمین و افسران عوام کی خدمت کے بجائے خود کو آرام دینے پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

پاکستان کے تمام پرائیویٹ بینکس صبح سے شام تک بغیر کسی وقفہ کے اپنے صارفین کو بہتر اور تیز تر سروس
فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس نیشنل بینک آف پاکستان دوران ڈیوٹی دوپہر میں کھانے اور نماز کے لیے ایک
گھنٹہ کا وقفہ کرتے ہیں۔

اتفاق سے میں چالان کی فیس جمع کرانے نیشنل بینک کی آبپارہ برانچ گیا۔ جہاں نماز اور کھانے کے وقفہ کے لیے
ڈیڑھ بجے سے پہلے ہی دروازہ بند کردیا گیا۔ اس دوران صارفین باہر دھوپ میں کھڑے کڑتے اور اپنے آپ کو ہی
کوستے رہے۔

باالخصوص بزرگ عورتیں اور مرد سخت دھوپ میں بغیر سائبان کے کھڑے اور بیٹھے بینک کھلنے کا انتظار
کرنے پر مجبور ہوئے۔ مالی مشکلات اور گھروالوں کی پریشانیوں سے تباہ حال بزرگ سرکاری ملازمین اور
حکومت کو دھائیاں دیتے رہے۔

ایک مائی نے کہا جب ان کی مائیں اس طرح دھوپ میں باہر کھڑی ہوں گی تو پھر انہیں پتہ چلے گا خود ٹھنڈی
مشین کے نیچے آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں اور ہمیں دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے۔ ان میں سے
بیشتر وہ تھے جن میں سے کسی کو دو ہزار روپے کسی کو پانچ ہزار روپے نکلوانے تھے یا بچوں کی فیسوں کے
چالان جمع کرانے تھے۔
بیشتر کا کام ایک منٹ سے زیادہ نہیں تھا لیکن نیشنل بینک ملازمین کو اپنے آرام کی پرواہ تھی کسی بزرگ
کی عزت نفس پائمال ہو انہیں کیا پروا۔

خیر جی وقفہ برائے آرام ختم ہوا سوادو کے بعد تمام لوگ بینک میں داخل ہوئے۔ کیش کاؤنٹر پر لائن لگی تو
ایک باریش آفسر جن کی ڈیوٹی چیکس جمع کرنے اور کلیئر کرنے پر تھی انہوں نے عین بینک کھلنے پر اپنی کرسی
کے پاس ہی جائے نماز بچھائی اور نماز شروع کر دی۔


پہلے باہر ایک گھنٹہ انتظار کیا اور پھر بینک میں کاؤنٹر پر افسر کی نماز ختم ہونے کا انتظار کیا۔ یہاں بھی ایک
بزرگ خاتون نے خوب کہا کہ اپنی نماز قائم کرلی اور ہمیں انتظار پر کھڑا کر دیا۔ وقفہ کے دوران نماز کیوں نہیں پڑھی؟

بینک میں زیادہ تر لوگوں کا کام کیش اور چیکس کا ہوا کرتا ہے۔ ناقص منصوبہ بندی کا یہ عالم کہ صرف ایک نوجوان کو
کیش کاؤنٹر پر بٹھایا گیا ہے۔ دوسرا چیک کلیئرنس پر وہ انتہائی سست اور تیسری خالی کرسی پر گارڈ کو
بٹھایا گیا جو پبلک سے چیک لے کر آفسر کو دینے کی ڈیوٹی انجام دیتا رہا۔ صارفین سے سیدھے منہ بات بھی نہیں
کرتے انہیں جواب بھی انتہائی تلخ لہجے میں دیے جارہے تھے۔

یہ صورت حال مجھ سے نہ دیکھی گئی میں بینک منیجر کے کمرہ میں چلا گیا۔ ان سے ماجرہ بیان کیا تو وہ کہنے لگے جی ہاں میں اس کا زمہ دار ہوں میری وجہ سے یہ ہوا اگر آپ کا کوئی کام ہے تو مجھے دیں ابھی ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ تھا بینک منیجر کا بالکل چوہدری شجاعت کی طرح کہ مٹی پاؤ آگے بڑھو۔


آخر ہم اپنا کام کیوں بروقت اور ٹھیک طرح نہیں کرتے؟ کیا ملک اس طرح ترقی کرے گا؟ پرائیویٹ بینکس کی سروس دیکھیں وہ کس طرح اپنے صارفین کی خدمت کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر گھروں تک پہنچ جایا کرتے ہیں۔ بینک سروس بغیر کسی وقفے کے فراہم کرتے ہیں۔ عزت الگ دیتے ہیں لیکن سرکاری بینک ملازم سب کو اپنا نوکر سمجھتے ہیں اور جائز کام کے لیے صارفین کو بے جا پریشان کرکے تسکین حاصل کرتے ہیں۔
میری نیشنل بینک کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ وہ صورت حال کو دیکھیں اگر یقین نہیں آتا تو خود اپنے بینکوں کی سروس کو چیک کریں۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پھر مجبور اور بے سہارا لوگ اپنی عزت پائمال ہونے سے بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے