English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ماحولیاتی اہداف کے لیے بائیڈن انتظامیہ کا جوہری توانائی پر انحصار بڑھانے کا عندیہ

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ، سیکیورٹی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے باوجود، محتاط انداز میں نیوکلیر انرجی کو قبول کر رہی ہے تاکہ وہ سال 2050 تک کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کے امریکہ کے اہدف حاصل کر سکے۔

ماحول سے متعلق صدر بائیڈن کی مشیر جینا میکارتھی نے کہا ہے کہ امریکہ کے 94 نیوکلئر پاور پلانٹ، جو دنیا میں کسی بھی ملک کی نسبت سب سے زیادہ ہیں، ان کے الفاظ میں ملک کے لیے ’’ بلاشبہ ناگزیر‘‘ ہیں تاکہ موسمیات سے متعلق بائیڈن کے منصوبوں کو حاصل کیا جا سکے۔

جینا میکارتھی (فائل فوٹو: رائٹرز)

جینا میکارتھی (فائل فوٹو: رائٹرز)

کولمبیا یونیورسٹی سینٹر آن گلوبل پالیسی کی جانب سے منعقدہ ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا:

’’ اب میں توقع نہیں رکھتی کہ وہ پرانے نیوکلئر ری ایکٹر زیادہ وقت تک ہمارے پاس رہیں۔ لیکن میں توقع رکھتی ہوں کہ وہ محفوظ رہیں گے، اور میں توقع رکھتی ہوں کہ وہ اس انداز میں چلتے رہیں گے جس سے ہم گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم رکھ سکیں‘‘

اس سے قبل توانائی کی وزیر جینیفر گرین ہوم نے گزشتہ ماہ ہاؤس کی ایک ذیلی کمیٹی کے سامنے شہادت میں کہا تھا کہ اگر جوہری توانائی کے پلانٹس بند ہو جاتے ہیں تو ہم ماحول سے متعلق اپنے اہداف حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ ہمیں راستے نکالنے ہیں کہ یہ پلانٹس کام کرتے رہیں۔

ڈومینئن انرجی کے سینئر نائب صدر اور چیف نیوکلئر آفیسر ڈین سٹوڈرڈ نے بھی ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے جوہری توانائی کے ذرائع کی تائید کی ہے۔

’’ میں بلاشبہ اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ اگر ہم نے کاربن کے اخراج کو صفر تک لانا ہے تو جوہری توانائی ہی مسئلے کا حل ہے‘‘

امریکہ کے توانائی کے محکمے کے مطابق، ایک گیگاواٹ ری ایکٹر سے جو توانائی حاصل ہوتی ہے اتنی توانائی تین ملین سولر پینلز اور چار سو سے زیادہ ہوائی چکی کے بجلی گھروں (ونڈ ٹربائنز) سے حاصل ہوتی ہے۔



فائل فوٹو

سٹڈرڈ کا کہنا ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے توانائی کا حصول اچھی چیز ہے۔ اس کو سٹور کرنا بھی اچھا ہے۔ لیکن نیوکلئر انرجی وہ چیز ہے جس پر مستقبل میں انحصار زیادہ نظر آتا ہے۔ ان کے بقول اگر کاربن سے پاک بجلی کی سپلائی چاہیے تو یہ ایک اہم پہلو ہو گا۔

امریکہ کے اندر جوہری توانائی کے پلانٹس گیسوں کے اخراج کے بغیر بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، لیکن یہ پلانٹس ہمیشہ کے لیے کارآمد نہیں ہیں اور امریکہ میں بہت کم نئے پاور پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔ ان پرانے پلانٹس کو ختم کرنے سے بائیڈن انتظامیہ کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ صاف توانائی کے حصول میں اپنے اہداف حاصل کر سکے۔

وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں اراکین کانگریس اور صنعت کے سٹیک ہولڈرز کو عندیہ دیا ہے کہ وہ ان پرانے یونٹس کو بند ہونے سے بچانے کے لیے سبسڈی (حکومتی رعایت) کی حمایت کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے