امریکی خفیہ سروس سی آئی اے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں کسی ممکنہ کاروائی امکانات کو جاری رکھ سکنے کی راہوں کی تلاش میں ہے۔
امریکی صدر جو بائڈن کی جانب سے 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام تر امریکی فوجیوں کا انخلا کرنے کے اعلان کے قلیل مدت بعد ہی اس ملک سے 44 فیصد امریکی فوجیں انخلا کر گئی ہیں۔
فوجیں واپس بلانے کا عمل سرعت سے جاری ہے تو افغانستان میں امریکی فوجی آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے امور سرانجام دینے والی سی آئی اے عنقریب اس ملک میں اپنے تمام تر فوجی اڈو ں سکو کھو دے گی۔
وزارت دفاع اور خفیہ ادارہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کو بیرون ملک سے جاری رکھے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز میں بعض عہدیداروں کے جائزات کے حوالے سے شائع ہونے والے ان تجزیات کے مطابق سی آئی اے افغانستان کے معاملے میں متعدد متبادل پر غور کر رہی ہے۔ تا ہم ابتک افغانستان میں آپریشن کرنے کے لیے سی آئی اے کو اپنا اڈہ قائم کرنے کی کسی بھی ملک سے اجازت نہ ملنا حکام کو خدشات سے دو چار کر رہی ہے۔
اس تجزیے کے مطابق متبادل ممالک میں سے ایک پاکستان ہے، تا ہم حکومت ِ پاکستان نے واضح طور پر امریکہ کو افغان آپریشنز کے لیے اپنی سر زمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
