English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی حکومت کی آزادی اظہار رائے پر پابندیاں

ریٹائرڈ سیکیورٹی عہدیداروں کولکھنے کے لئے سرکاری طور پر اجازت لینا ہوگی
سرکاری اجازت سے لکھنے کا نیا ضابطہ تنقید کو روکنے کی چال ہے
نئی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی سبکدوش افسر کی پنشن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے

سدھارتھ وردراجن

نئی دہلی- ساوتھ ایشین وائر
ریٹائرڈسیکیورٹی اور انٹلی جنس افسروں کو موجودہ پالیسیوں سے متعلق امورپر تنقیدی تبصرہ کرنے سے باز رکھنے کی کوشش میں نریندر مودی حکومت نے سینٹرل سول سروسز (پنشن)رولز، 1972 میں ایک ترمیم کی نوٹیفیکیشن جاری کرکے سبکدوش افسران کوپیشگی اجازت کے بغیرکسی ایسے موضوع پر میڈیا میں کوئی تبصرہ کرنے، کوئی خط یا کتاب یا کوئی دستاویزشائع کرانے پر پابندی لگا دی ہے، جو کسی ایسے ادارے کے دائرے میں آتا ہے،جس میں انہوں نے کام کیا ہو۔
اس ترمیم کوضابطہ8 میں شامل کیا گیا ہے جو کہ مستقبل کے اچھے اخلاق کی بنیاد پر پنشن سے متعلق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی گائیڈ لائن کی کوئی بھی خلاف ورزی سبکدوش افسر کے پنشن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پنشن رولزمیں2008کی ترمیم نے صرف آفیشیل سیکریٹ ایکٹ اور جنرل کرائم قانون کے تحت پابندیوں کو واضح کرتے ہوئے سبکدوش افسران کے حساس مسائل پر لکھنے پر؛ جو ہندوستان کی خودمختاریت اور سالمیت، ریاست کی سلامتی ، ڈپلومیٹک،سائنسی اور اقتصادی مفادات کو مضرطریقے سے متاثر کرے گی یا کسی جرم کو بڑھاوا دے گی، پابندی لگا دی تھی۔ اب یہ نیا نوٹیفیکیشن پابندیوں کے دائرے کو کافی بڑھا دے گا۔وزارت عملہ، عوامی شکایات و پنشن جس کے سربراہ نریندر مودی ہیں،کے ذریعے31 مئی،2021 کو جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر، جس نے انٹلی جنس یا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ،(2005 -22)میں شامل سلامتی سے متعلق کسی ادارے میں کام کیا ہے، سبکدوشی کے بعدادارے کے سربراہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کوئی ایساموادشائع نہیں کریگا، جو ؛اس ادارے کے ڈومین میں آتا ہو۔ اس میں کسی اسٹاف یا اس کاعہدہ یا اس کی مہارت یا معلومات شامل ہے، جو اسے اس ادارے میں کام کرنیکی وجہ سے حاصل ہوئی ہو۔ادارے کے دائرہ کار(ڈومین)اور اس ادارے میں کام کرنے کی وجہ سیحاصل مہارت یا علمسے وابستہ
کسی بھی طرح کی تحریر پر لگائی گئی نئی پابندیاں اتنی وسیع اور ساتھ ہی ساتھ اتنی مبہم ہیں کہ عوامی مسائل پر تبصرہ کرنے والے سیکیورٹی اور انٹلی جنس اداروں سے ریٹائر ہونے والے کچھ افسر اس کوحکومت کے ناقدین کو ڈرا دھمکا کرخاموش کرانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پہچان ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سابق افسر نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا،موجودہ حکومت پورے نیریٹو پر کنٹرول کرنے کی جارحانہ حالت میں ہے۔ میرااندازہ ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے سبکدوش بیوروکریٹس کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئینی کنڈکٹ گروپ،جس میں سابق سیکیورٹی اور انٹلی جنس افسر شامل ہیں؛ کے ذریعے مختلف موضوعات پر لکھی جا رہی چٹھیاں بھی حکومت کے وزیروں کے ذہن میں رہی ہوں گی۔ جہاں متعصبانہ سیاسی ایجنڈوں سے قانون کے اقتدار کے کمزور ہونے سے ان اداروں میں کئی سبکدوش افسر پریشان ہیں، وہیں حکومت یہ بالکل بھی نہیں چاہتی کہ اس کے ناقدین کی فہرست اپنی بات رکھنے کے خواہش مند نئے سبکدوش افسران کا نام شامل ہونے سے مزیدلمبی ہو جائے۔
یہ قانون پہلے ہی اشاعت لفظ میں پریس اور الکٹرانک میڈیا میں اپنی بات کہنے کے لئے کوئی کتاب، چٹھی، پرچہ، پوسٹر یا کسی بھی شکل میں کوئی اور دستاویز کی اشاعت کو شامل کرتا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نئے ضابطوں کے دائرے میں آنے والے اداروں میں انٹلی جنس بیورو()آئی بی)، کابینہ سیکریٹریٹ کا ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (را)، ڈائریکٹریٹ آف ریونیوانٹلی جنس، سینٹرل اکانومک انٹلی جنس بیورو، انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ(آئی ڈی)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی)، ایوی ایشن ریسرچ سینٹر، اسپیشل فرنٹیر فورس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، انڈوتبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی)،نیشنل سیکیورٹی گارڈ (این ایس جی)، آسام رائفلز، انڈمان نکوبار جزیرے کا اسپیشل سروس بیورو، اسپیشل برانچ سی آئی ڈی ، دادرا اور ناگر حویلی کا کرائم برانچ-سی آئی ڈی-سی بی اور اسپیشل برانچ، لکش دیپ پولیس شامل ہیں۔
نئے ضابطہ کا مطلب ہے کہ را کے سابق افسر کسی خارجہ مسئلے یا پاکستان، افغانستان یا چین جیسے سلامتی سے متعلق موضوعات پر اجازت لیے بغیر میڈیا میں کوئی مضمون نہیں لکھ سکتے۔انٹلی جنس بیورو کے کسی سابق افسر کو فرقہ وارانہ تشددیاداخلی سلامتی کے معاملے سے نمٹنے میں ناکامی یا گھریلوسیاست پر بھی کچھ لکھنے سے بین کر دیا جائیگا، کیونکہ یہ سب آئی بی کے دائرہ کار(ڈومین)میں آتے ہیں۔سی آر پی ایف، بی ایس ایف وغیرہ کے سبکدوش افسران کے لیے بھی سرکار سے پیشگی اجازت لیے بغیرمختلف موضوعات پر جن میں ان کی مہارت ہے، کچھ بھی تبصرہ کرنا مشکل ہو جائیگا۔ترمیم شدہ پنشن ضابطوں میں ایک نیا فارم شامل کیا گیا ہے جس پر اداروں کے ملازمین کو اب سے دستخط کرنا پڑیگا اور یہ وعدہ دینا پڑیگا کہ وہ سروس کے دوران یا سبکدوشی کے بعد ادارے کے دائرہ کارسے متعلق یا اس ادارے میں کام کرنے کے کی وجہ سے حاصل ہوئی کوئی معلومات یا موادکو کسی بھی طرح سے شائع نہیں کریں گے۔
اس فارم کے 2008 کے ڈرافٹ نے اس (انڈرٹیکنگ)کو صوبے کی سلامتی اور خودمختاریت پر خطرہ پیدا کرنے والے کسی مواد کی اشاعت تک محدود رکھا تھا۔سال 2008 کے فارم کی ہی طرح نئے انڈرٹیکنگ میں بھی حال اور مستقبل کے افسران کو اس پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ فارم میں تفصیل سے مذکوروعدوں کی خلاف ورزی کے لیے سرکار کی طرف سے ان کے خلاف کوئی منفی کارروائی کرنے پر وہ اپنے پنشن کے حقوق سے محروم کر دیے جا ئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے