English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا حکومت کلبھوشن یادیو کواین آر او دے رہی ہے؟

القمر

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز یکِے بعد دیگرے کئی بِل منظور کر لیے گئے اور ان میں سے ایک عالمی عدالت انصاف ’حقِ نظرثانی بل 2020‘ (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) 2020 بھی منظور کیا گیا ہے۔  اس بِل کا براہِ راست تعلق مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو اپیل کرنے کا حق دینے سے ہے، جس کے لیے اسمبلی میں خاص طور سے دیگر معاملات کو منسوخ کرنے کے بعد اس بِل سمیت متعدد دیگر بِلوں کی منظوری بھی دی گئی۔  ایک روز پہلے اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جانب سے شور شرابے کے دوران یہ سوالات بھی کیے گئے کہ آخر انڈین جاسوس کے معاملے میں الگ سے اپیل دائر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  واضح رہے کہ بجٹ سیشن 20 روز جاری رہتا ہے جس کے دوران اسمبلی میں پیش ہونے والے تمام بِل، خاص طور سے وہ جن پر بحث کرنا لازمی ہو، وہ بعد کے لیے رکھ لیے جاتے ہیں لیکن اگر ہنگامی بنیادوں پر کسی بِل پر بات کرنی ہو ان کے لیے پہلے سیشن رکھ لیا جاتا ہے۔  لیکن جادھو سے متعلق اپیل کے بِل کو منظور کرنے کے پیچھے یہ وجہ بتائی جارہی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے کلبھوشن جادھو کو عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کے تحت اپیل کرنے کی اجازت دینا چاہتا ہے۔ وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر پاکستان یہ بِل منطور نہ کرتا تو انڈیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پہنچ جاتا۔‘

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ حکومت کلبھوشن یادو کو این آر او دے رہی ہے جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔   پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بل کی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کو اس اور دوسرے بلوں پر بات کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ ’بل پڑھنے کا حق نہیں، بل پر بحث کا حق نہیں، اپنے ووٹ کے شمار ہونے اور اختلاف کو ریکارڈ پر لانے کا حق نہیں، قانون سازی میں پارلیمان کا کردار مکمل طور پر مجروح کردیا گیا ہے۔‘  انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے، الیکشن ایکٹ میں ترامیم اور کلبھوشن کو این آر او دینے کے بلوں کو زبردستی منظور کرایا گیا۔  اس سے قبل حزب اختلاف نے حکومت کی طرف سے پے در پے قانون سازی کے خلاف احتجاج کے طور پر قومی اسمبلی میں شور شرابا کیا جبکہ اپوزیشن نے ایوان میں کورم کی کمی کی نشاندہی کی۔  تاہم اپوزیشن کے ہنگامے اور شور شرابے کے باوجود ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے حکومتی بینچوں کو قانون سازی کی اجازت دی، انہوں نے کورم کی نشاندہی پر بھی توجہ نہیں دی۔

پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد جادھو کی اپیل کا بِل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش ہوگا، جو بجٹ سیشن کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ اس پر اب حزبِ اختلاف کی جماعتیں اعتراض کر رہی ہیں کہ اگر 20 دن انتظار ہی کرنا تھا تو جلدی سے بِل کیوں منظور کرایا گیا؟ بیرسٹر اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جادھو کی اپیل اور ریویو کا بِل منظور کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ عالمی عدالتِ انصاف یعنی آئی سی جے کے مشاہدے کے مطابق پاکستان کے مقامی قوانین میں اپیل اور ریویو کی شِق ہونی چاہیے جو فوجی عدالت کے فیصلے کو دیکھنے کے طور پر کام آ سکے۔  ’پاکستان کی فوجی عدالتیں سنہ 2015 میں آرمی پبلک سکول میں دہشت گرد حملے کے بعد بنائی گئی تھیں۔ ان عدالتوں سے منسلک جو ایکٹ بنایا گیا تھا اس پر تشویش اور اعتراض یہ تھا کہ فوجی عدالتیں آئین کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔‘  سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ ’پھر سپریم کورٹ نے اس بارے میں کہا تھا کہ فوجی عدالتوں سے جو بھی فیصلہ یا آرڈر دیا جائے گا، اس فیصلے اور آرڈر کا عدالتی جائزہ یا ریویو کیا جائے گا اور رِٹ پٹیشن جمع کی جا سکے گی۔ جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس (مرحوم) وقار احمد سیٹھ نے کئی رِٹ پٹیشن سن کر لوگوں کو رہائی دلوائی۔‘

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ’اسی لیے اپوزیشن کا بھی یہی کہنا ہے کہ جادھو کے لیے بھی حکومت کو نئے سِرے سے قوانین بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پہلے سے موجود ہیں جن میں اس طرح کے حالات میں طریقہ کار خاصے واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔‘  انھوں نے کہا کہ ’جادھو کو اگر سزا ہوتی ہے تو ان کو یہ حق ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن جمع کریں جس کے بعد ان کی اپیل کی درخواست ہائیکورٹ میں سنی جا سکتی ہے لیکن ان تمام باتوں پر بحث نہیں ہو سکی کیونکہ حکومت کی جانب سے جادھو کا معاملہ قومی سلامتی کے زمرے میں دیکھا جارہا ہے۔ دوسری جانب بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو کی سزا کیخلاف اپیل سے متعلق قانون سازی پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے کیس کو مسلم لیگ ن نے بگاڑا، ہم عالمی عدالت کی سفارشات پرعملدرآمد کر رہے ہیں،عالمی عدالت کی تجویز پر ہم نے کلبھوشن سے متعلق اقدامات اٹھائے، بھارت چاہتا ہے کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہ دی جائے اور پاکستان کودوبارہ عالمی عدالت میں لے جائے،امید ہے کہ کلبھوشن کیس میں اپوزیشن بھارت کی چالوں کوسمجھے گی۔

حکومت کی کلبھوشن یادیو کے حوالے سے تمام تر بات درست ہے مگر ایک وقت وہ بھی تھا جب حکومت کلبھوشن کے حوالے سے کوئی بات کرتی تھی تو عمران خان اس پر مودی کا یار اور کلبھوشن کو بچانے کے الزام لگاتے تھے ۔ کلبھوشن کے حوالے سے عمران خان صاحب نے ماضی میں جس قدر سیاست کی وہ ایک کھلا باب ہے اور وہی عمران خان چاہتے ہیں کہ کلبھوشن کے حوالے سے اپوزیشن ان کی بات جو سمجھے ؟ کیا اس وقت عمران خان کلبھوشن پر ن لیگ کو پوزیشن کو سمجھنے پہ تیار تھے؟ یہی وجہ ہے آج اپوزیشن اور عوام  یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ  کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان سابق وزیراعظم نواز شریف پر ملک دشمنی کا الزام لگاتے تھے خود قاتل مودی کے دوست بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا حکم دیا تھا تو اب حکومت اسے پھانسی لگانے کی بجائے اس کا تحفظ کر رہی ہے۔ یہ بھارت سے دوستی اور ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ عوام اور اپوزیشن یہ سوال اٹھاتی دکھائی دیتی ہے کہ کلبھوشن یادیو کیخلاف ٹھوس شواہد کے باوجود اس کیساتھ رعایت کا مطلب ملک دشمنی اور دہشت گردوں کو تحفظ دینے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے؟

عمران خان نے جو بویا ہے درحقیقت وہی کاٹ رہی ہے۔ ایک طویل عرصہ پاکستان تحریک انصاف کلبھوشن کے معاملے پر ن لیگ کو غدار ثابت کرنے پر تلی رہی اور آج مکافات عمل ہے کہ اسے خود وہی معاملہ درپیش ہے اور وہ کلبھوشن کے معاملے پر صفائیاں دے رہی ہے۔ رہی بات بین الاقوامی عدالت انصاف کی تو بھارت نے کبھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا تو پاکستان کس لیے عالمی عدالت انصاف کی بات مان رہا ہے۔ یہ پاکستان کی داخلی خودمختاری کا معاملہ ہے اور اس معاملے پر عالمی عدالت انصاف کے سامنے یوں ہتھیار ڈالنا پاکستان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ وہ کلبھوشن کے معاملے پر بھارت سے کچھ لیوریج لے سکتی ہے تو یہ سراسر اس کی غلط فہمی ہوگی۔ بلکہ سوائے ملک کی کمزوری کے اسے اور کچھ نہیں سمجھا جائے گا پاکستان ابھینندان کے معاملے میں بھی اسی طرح کی سبکی کا سامنا کر چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جو بھی فیصلہ کرے وہ ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر کرے ورنہ اس کے حصے میں ذلت و رسوائی ہی آئے گی۔

اتوار، 13 جون 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے