ویب ڈیسک —
ملک کے اندر سے ابھرنے والی دہشت گردی کے خطرے پر قابو پانے کی کوششوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امریکہ کو اس سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ سے نمٹنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے اور یہ رکاوٹ ہے تشدد کو ہوا دینے کے لیے بیرونی ملکوں اور دہشت گرد گروپس کی جانب سے انتہائی احتیاط سے چلائی جانے والی مہمات جس میں ڈس انفارمیشن سے بھی مدد لی جاتی ہے۔
صدر بائیڈن کی جانب سے مقامی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے متعلق قومی حکمت علمی کا پروگرام سامنے آنے کے بعد امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک سینئر عہدے دار نے انتباہ کیا ہے کہ ہمیں ڈس انفارمیشن یعنی گمراہ کن اطلاعات پھیلانے والے عناصر پر نظر رکھنی ہو گی۔
بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ کے اندر کٹّر انتہاپسندوں کے بیرون ملک براہ راست رابطوں کو کم اہمیت دی ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیز کے ایک سینئر عہدے دار نےکہا ہے کہ ان کی نظر میں ابھی تک مقامی دہشت گردی اور بیرونی کرداروں کے درمیان مضبوط رابطوں کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ جب کہ دوسرے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان رابطوں کے لیے روایتی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ماڈل پر عمل نہیں کیا جاتا۔
انسداد دہشت گردی سے متعلق محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے کوآرڈی نیٹر جان کوہن نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے انتہاپسندی سے متعلق ایک پروگرام کے ویب نار میں کہا کہ موجودہ خطرے کا ایک مرکزی عنصروہ بیانیے ہیں جو انتہا پسندانہ رویے کو بڑھاوا دے سکتے ہیں اور اسے بڑے پیمانے پر پھیلانے کا موجب بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے عمومی بیانیے دیکھ رہے ہیں جو ان افراد کی بازگشت دکھائی دیتے ہیں جو انتہاپسندانہ نظریات کو بیرونی ملکوں کی جانب سے تشدد کے جواز کے طورپر پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرے کا باعث بننے والے کردار موجود ہیں، چاہے وہ غیر ملکی حکومتیں ہوں، مثال کے طور پر روس، ایران یا چین، یا متشدد نظریات رکھنے والے لیڈر ہوں یا دہشت گرد گروپس، وہ لوگوں کی برہمی اور معاشرے کی تقسیم کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
امریکہ میں مقامی انتہاپسندی پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے خدشات نئے نہیں ہیں۔
ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے مارچ میں جاری ہونے والے ایک نان کلاسیفائیڈ تجزیے میں امریکہ میں سفید فام بالادستی پر یقین رکھنے والوں اوردوسرے ملکوں میں رہنے والوں کے درمیان رابطوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ نسلی بالادستی گروپ کے محدود تعداد میں ارکان مضبوط رابطوں کے فروغ کے لیے سفر کرتے رہے ہیں۔
جان کوہن کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے ورچوئل ماحول میں براہ راست رابطوں میں کمی آ رہی ہے۔


No media source currently available
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ خطرہ نہیں ہے جس کی ہم جانچ پرڑتال کر سکیں، یا ہم ان افراد کی ذاتی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر اس پر قابو پا سکیں جو حملوں کی تیاری میں ملوث ہو سکتے ہوں، بلکہ ہمیں اس بارے میں زیادہ جاننے کی ضرورت ہو گی کہ کس طرح انتہاپسندی پر مبنی نظریات کے حامل لیڈر اور دوسرے لوگ پرائیوٹ اور آن لائن پلیٹ فارموں کے ذریعے اس توقع پر اپنے بیانیے پھیلا رہے ہیں کہ وہ غیر مطمئن، معاشرے سے کٹے اور برہم افراد کو اپنے دائرہ اثر میں لے لیں گے۔
اعلیٰ امریکی عہدے داروں کے نزدیک روس خاص طور پر تشویش کا باعث رہا ہے
جنوری میں صدر بائیڈن کی انتخاب میں کامیابی کی توثیق سے متعلق سماعت میں نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ایورل ہینز نے بتایا کہ کریملن اپنے اقدامات کے ذریعے انتہاپسندی کو بڑھاوا دینے کے لیے امریکہ میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست میں دخل دے رہا تھا۔
موجودہ اور سابق عہدے اور اس کے ساتھ ساتھ تجزیہ کار بھی یہ انتباہ کر چکے ہیں کہ روس انتہائی دائیں بازو اور انتہائی بائیں بازو میں ایک ایسی نسل پروان چڑھانے کی کوشش پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو اس کے زیر اثر ہو۔
مقامی دہشت گردی پر قابو پانے کی نئی حکمت عملی کے تحت عہدے دار معاشرتی تقسیم کی روک تھام کی کوشش کریں گے جو اکثر غلط معلومات، لاعلمی اور انٹرنیٹ پر موجود خطرناک سازشی نظریات سے جنم لیتی ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے عہدے داروں کا کہنا ہے ڈس انفارمیشن سے نمٹنا بطور خاص مشکل ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں چھ جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے اور محاصرے کا ذکر کیا،جس میں ملوث تقریباً 500 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
کوہن کا کہنا تھا کہ اس روز کانگریس کی عمارت پر حملہ کرنے والوں میں بہت سوں کا تعلق کسی بھی گروپ سے نہیں تھا۔
امریکی عہدے داروں کو یہ فکر ہے کہ اگر ممالک یا دہشت گرد نیٹ ورکس آرٹیفیشل انٹیلی جنس تک رسائی حاصل کر لیں تو ڈس انفارمیشن کا اثر اور پھیلاؤ ملک میں حالات کو ابتر بنا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی سائبر اور ایمرجنگ ٹیکنالوجیز امور کی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر این نیوبرگر کہتی ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس جس پیمانے پر ڈس انفارمشن پھیلا سکتی ہے، وہ حقیقتا ایک بڑا خطرہ ہے۔
