امریکا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم عمران خان
جون 20, 2021
القمر
وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر کسی بھی طرح کی کارروائی کے لیے اپنے کسی بھی اڈے اور اپنی سرزمین کو امریکا کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
وزیر اعظم نے ایچ بی او پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘ہرگز نہیں، کسی بھی صورت ہم اپنے اڈوں کے استعمال کی اور نہ ہی پاکستانی حدود سے افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کی اجازت دیں گے’۔
ایچ بی او ایکزیوس کی ویب سائٹ پر اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو کے ایک ٹریلر میں انٹرویو لینے والے جوناتھن سوان نے سوال کیا تھا ‘کیا آپ امریکی حکومت کو پاکستان میں سی آئی اے کی موجودگی کی اجازت دیتے ہیں تاکہ وہ القاعدہ کے خلاف سرحد پار انسداد دہشت گردی مشن چلائیں جیسے داعش یا طالبان؟’۔
وزیر اعظم نے جواب دیا ‘ہرگز نہیں’، ان کے واضح ردعمل پر حیرت میں آکر انٹرویو لینے والے نے وزیر اعظم سے ان کے رد عمل کی تصدیق کے لیے سوال کیا ‘کیا واقعی’۔
ایچ بی او پر ایگزیوس ایک دستاویزی خبروں کا پروگرام ہے جو ٹیکنالوجی، میڈیا، کاروبار، اور سیاست میں تصادم کے حوالے سے ایگزیوس کے صحافیوں کی رپورٹنگ کو ایچ بی او کے فلم سازوں کی مہارت کے ساتھ جوڑتا ہے۔
اس پروگرام میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سندر پچائی، ایلون مسک، مریم باررا، موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن، اینڈریو یانگ اور کمالہ ہیریس کے ساتھ انٹرویوز نشر کیے جاچکے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں سینیٹ میں اپنے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔
انہوں نے اسے بے بنیاد اطلاعات قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور واضح کیا تھا کہ حکومت کبھی بھی امریکا کو فوجی اڈے فراہم نہیں کرے گی اور نہ ہی پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کی اجازت دے گی۔
کابینہ کی بریفنگ میں وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے پاکستان میں امریکا کے کسی بھی فوجی اڈے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی تمام تر سہولیات پاکستان کے اپنے استعمال میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت ہے جس نے ماضی میں امریکا کو دی جانے والی ’ڈرون نگرانی‘ سہولت ختم کردی تھی۔
انہوں نے کہا کہ تمام ایئر بیس پاکستان کے زیر استعمال ہیں، اس وقت اس سلسلے میں کوئی بات چیت جاری نہیں ہے کیونکہ پاکستان (کسی بھی ملک) کو کوئی ایئربیس نہیں دے سکتا ہے۔