مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر بھارت میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بی جے پی کی
حکومت تقریبا 22 ماہ بعد کشمیری کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی۔
مودی حکومت کی طرف سے مسلسل کوشش کی جارہی تھی کہ مقبوضہ کشمیر کی مقامی سیاسی جماعتوں
کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جاسکیں اور مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکالا جاسکے۔
بی جے پی حکومت 5اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے اور اس
کے بعد کی کشمیر کی سیاسی صورت حال پر پریشانی کا شکار ہے۔
مودی حکومت کشمیریوں کی طرف سے اس قسم کے ردعمل کی توقع نہیں کررہی تھی کیوں کہ مسلسل
کرفیو اور کشمیریوں پر ظلم و ستم بھی ان کے جذبے کو ٹھنڈا نہ کرسکا۔
مودی کے اس یکطرفہ اقدام کا فائدہ یہ ہوا کہ بھارت نواز سیاسی جماعتیں بھی مقبوضہ کشمیر کی آزادی
کے خلاف مارے گئے شب خون کے خلاف اکٹھا ہوگئیں۔
مودی سرکار کی مسلسل درخواستوں کے بعد مقبوضہ کشمیر چھ سیاسی جماعتوں نے جوائنٹ میٹنگ کی ہے۔
اس میٹنگ میں وہی سیاسی جماعتیں شامل تھیں جو ماضی میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے نام نہاد
انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
ان چھ سیاسی جماعتوں میں این سی، پی ڈی پی، سی پی ایم اور سی پی آئی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔
ان جماعتوں نے اس بار وزیراعظم نریندر مودی کی درخواست قبول کرتے ہوئے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔
ان سیاسی جماعتوں کی وزیر اعظم نریندرا مودی سے جمعرات 24 جون کو دہلی میں ملاقات ہوگی۔
یہ 2019 کے بعد پہلا موقع ہے جب کشمیر کی کسی سیاسی پارٹی کے رہنما یا سربراہ بھارتی وزیراعظم سے
ملاقات کر رہا ہے لیکن مودی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کو دعوت نہیں دی ہے۔
تاہم اس ملاقات سے پہلے ایک بہت بڑی ڈویلپمنٹ یہ آئی ہے کہ بھارتی کانگرس نی کشمیر کی خصوصی
اہمیت کی بحالی کا پھر سے مطالبہ کردیا ہے۔
کانگرس کا کہنا کہ مقبوضہ کشمیر کی پانچ اگست سے پہلے والی حیثیت کو بحال کیا جائے۔
کانگرس کی طرف سے فلحال اس ملاقات میں شامل ہونے یا ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بھارتی وزیراعظم نے چودہ جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاہم ابھی آٹھ جماعتوں کے اتحاد نے
24جون ملاقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن مزاکرات کا نتیجہ اسی وقت نکل سکتا ہے جب ان میں
کشمیر کے عوام کی اصل قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کو بھی بلایا جائے
