لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 2 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے۔
دھماکا اللہ ہو چوک کے قریب ہوا جس سے قریبی گھروں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار سمیت 2 افراد کے جاں بحق اور 17 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں سے مزید 5 کی حالت تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور مدثر ریاض ملک نے نجی ٹی وی چینل ‘سما’ سے جائے وقوع پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی طور پر دھماکے کے محرکات سامنے نہیں آئے لیکن اس سے گڑھا پڑ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم تحقیقات کے بعد ہی دھماکے کی نوعیت کا تعین کر سکیں گے’۔
دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
نجی چینل ‘سما’ سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے کہا کہ دھماکے سے ان کے گھر کو شدید نقصان پہنچا۔
ایک اور عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ موٹرسائیکل میں نصب ڈیوائس کو دھماکے سے اڑایا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے کہا کہ ‘اب تک ہم یہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ آیا دھماکا گیس پائپ لائن پھٹنے سے ہوا یا سلنڈر دھماکا تھا’۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے 4 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور دیگر افراد کے زخمی ہونے کا بھی امکان ہے۔

