English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ریاست مشی گن کے ری پبلکنز نے ٹرمپ کا الیکشن فراڈ کا الزام مسترد کر دیا

امریکی ریاست مشی گن میں ری پبلکن پارٹی کے تحت ہونے والی ایک تفتیش سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے الیکشن میں فراڈ کے دعوؤں کے باوجود اس وسط مغربی ریاست میں 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں بڑے پیمانے پر ووٹنگ میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کرنے کا سراغ نہیں ملا۔

ریپبلکن اراکین کے کنٹرول والی ریاستی سینیٹ کی نگران یا اوور سائٹ کمیٹی نے بدھ کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس ریاست کے شہریوں کو اس بارے میں پر اعتماد ہونا چاہئے کہ ووٹنگ کے نتائج درست تھے۔ ریاست مشی گن میں سابق صدر ٹرمپ کو ان کے حریف جو بائیڈن کے مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔

بائیڈن نے اس ریاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ایک لاکھ 55 ہزار زیادہ ووٹ لیے تھے۔ سن 2016 کے صدارتی الیکشن میں اس ریاست نے سابق صدر ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

سال 2020 کے صدارتی انتخاب کا فیصلہ ٹرمپ کے حق میں نہ آنے پر ان کے کئی حامیوں نے الزام عائد کیا کہ مشی گن میں ووٹوں کی گنتی کے دوران فراڈ کیا گیا تھا کیونکہ اس ریاست کی انٹرم کاؤنٹی ری پبلیکنز کا مضبوط گڑھ تھی۔

امریکی انتخابات: ریاست مشی گن میں بائیڈن کیوں جیتے؟





please wait



No media source currently available

ری پبلیکنز کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے تفتیش کار کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں پر زور دیں گے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے اس طرح کے جھوٹے دعوے اور نظریات پیش کرنے والوں کی جانب اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور ان کا تنقیدی جائزہ لیں۔

تفتیشی پینل نے ریاست کے اٹارنی جنرل پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں تحقیقات کریں جنہوں نے انٹرم کاؤنٹی میں ووٹوں کی گنتی کے متعلق جھوٹے الزامات لگائے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے