English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان سے بات چیت سے کشمیریوں کو سکون ملتا ہے: محبوبہ مفتی

سابقہ ریاست کی تقسیم کے حتمی ہونے پر بھارتی حکومت کوئی بات کرنا نہیں چاہتی

محبوبہ مفتی

نئی دہلی(ساوتھ ایشین وائر)وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ میٹنگ کے بعد پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ‘بھارت اور پاکستان کے مابین بات چیت ہوتی ہے تو کشمیریوں کو سکون ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آرٹیکل 370 کو غیر آئینی طریقے سے ہٹایا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر آرٹیکل 370 کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے غیر آئینی طریقے سے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ‘بھارتی حکومت کو پاکستان سے بات کرنی چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ جب پاکستان کے ساتھ بات چیت ہوتی ہے تو کشمیریوں کو سکون ملتا ہے۔بھارتی وزیر اعظم سے میٹنگ سے قبل محبوبہ مفتی کا جو موقف تھا میٹنگ کے بعد بھی انہوں نے وہی کہا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے غیر آئینی طریقے سے آرٹیکل 370 کو ہٹایا ہے۔ اس وقت کسی بھی نمائندے سے بات نہیں کی گئی تھی۔ صرف ایک ہی جھٹکے میں جموں و کشمیر سے اس کی طاقت چھین لی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ‘5 اگست 2019 کے بعد سے جموں و کشمیر کے عوام پریشان ہیں۔ اس لیے ان کی مدد کی جائے۔ آرٹیکل 370 ہمارے روزگار اور اراضی کے حق کو یقینی بناتا ہے، ہمیں اس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ منظور نہیں ہے۔ ہم جمہوری اور پرامن طریقے سے احتجاج جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل 19 جون کو 14 سیاسی رہنماوں کو وزیراعظم کی جانب سے میٹنگ کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ان رہنماوں کا تعلق 8 سیاسی جماعتوں- نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی)، بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی)، کانگریس، جموں و کشمیر اپنی پارٹی، سی پی آئی (ایم)، پیپلز کانفرنس اور پینتھرس پارٹی سے ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق لداخ کے کسی بھی رہنما کو اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سابقہ ریاست کی تقسیم کے حتمی ہونے پر مرکزی حکومت کوئی بات کرنا نہیں چاہتی حالانکہ کشمیر کے سیاسی رہنما چاہتے ہیں کہ ریاست کو دوبارہ متحد کرنے کے معاملے پر بات کی جائے۔
جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کی 5 اگست 2019 کے بعد وزیراعظم کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی جب مرکز نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے