سرینگر(القمرآن لائن)جموں و کشمیرسے شائع ہونے والے تمام انگریزی و اردو روزناموں نے دہلی میں کل جماعتی میٹنگ کو اپنے صفحہ اول پر شائع کیا تاہم کسی بھی معروف اخبار میں میٹنگ کے حوالے سے کوئی بھی اداریہ شائع نہیں کیا گیا۔
تقریبا دو برس کے تعطل کے بعد جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماوں کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی میٹنگ گزشتہ روز منعقد کی گئی۔ جہاں یہ میٹنگ تین گھنٹے 30 منٹ سے زائد عرصے تک چلی
القمرآن لائن کے مطابق اختتام ہونے کے بعد وادی کے کئی سیاسی رہنماوں نے مرکز کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کا استقبال کیا اور وزیراعظم کے سامنے اپنی طرف سے رکھے گئے مطالبات کا تذکرہ بھی کیا۔
وادی سے شائع ہونے والے تمام انگریزی و اردو روزناموں نے بھی اس خبر کو اپنے صفحہ اول پر شائع کیا تاہم کسی بھی معروف اخبار میں میٹنگ کے حوالے سے کوئی بھی اداریہ شائع نہیں کیا گیا۔انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر نے اپنے صفہ اول پر خبر کو – وانٹ ٹو ریمو ‘دہلی کی دوری’، ‘دل کی دوری ود جے اینڈ کے’ کی سرخی کے ساتھ شائع کیا۔ ساتھ میں میٹنگ میں شرکت کرنے والے لیڈران کے بیانات بھی واضح طور پر شائع کیے گئے۔ تاہم اداریہ اخبار سے غائب تھا۔
القمرآن لائن کے مطابق اردو روزنامہ کشمیر عظمی نے میٹنگ کے حوالے سے اپنے صارفین کو اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ‘حدبندی کے بعد انتخابات’۔ خبر کے ساتھ تمام لیڈران کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے۔ اس اخبار سے بھی گزشتہ روز کی سب سے اہم خبر کے حوالے سے اداریہ غائب تھا تاہم نفسیاتی امراض پر تبصرہ کیا گیا ہے۔روزنامہ رائزنگ کشمیر نے میٹنگ کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کو اپنی سرخی بنانے کو ترجیح دی اورصفحہ تین پر کشمیری لیڈران کے بیان شائع کیے گئے۔ اس اخبار نے بھی میٹنگ پرکوئی اداریہ نہیں شائع کیا، تاہم لینڈ کنورژن معاملے کو ترجیح دی گئی۔
روزنامہ تعمیلِ ارشاد نے بھی گریٹر کشمیر کی طرح ہی وزیر اعظم کے بیان کو اپنے صفحہ اول کی زینت بننے کے ساتھ ساتھ تمام معروف لیڈران کے بیانات شائع کیے۔ تاہم میٹنگ کے حوالے سے اداریہ اس اخبار سے بھی غائب تھا۔
وادی سے شائع ہونے والے دیگر اخبارات نے بھی اسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے میٹنگ کے حوالے سے خبر پیش کی تاہم کوئی تجزیہ یا نظریہ دیکھنے کو نہیں ملا۔
