English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کا رول بہت اہمیت کا حامل ہوگا، تجزیہ کار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی امریکی صدر جو بائیڈن سے ہونے والی ملاقات میں افغان صدر امریکی حمایت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ، انخلا کے بعد افغان فوج کے لئے ٹریننگ اور مالی امداد جاری رکھنے پر بھی زور دیں گے۔

بقول ماہرین افغان قیادت کی یہ بھی خواہش ہو گی کہ اتحادی افواج کے انخلا کے باعث ملک کو درپیش چیلنچز کے علاوہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے حوالے سے بھی بات کریں، تاکہ بین الافغان امن عمل میں پیش رفت ہو سکے۔

جاری دو روزہ دورہ امریکہ کے دوران، قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ بھی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے اعلیٰ سطی وفد میں شامل ہیں۔

افغان امور کے ماہر اور سینئر تجزیہ نگار، رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کا رول بہت اہمیت کا حامل ہے، جس کے بعد افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان حالات کا تعین کرے گا۔



فائل فوٹو

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید بتایا کہ امریکی صدر سے ملاقات کے دوران پاکستان کے کردار پر ضرور بات ہو گی۔ ان کے مطابق، پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بہتر ہوگا کہ افغان صدر دورہ امریکہ کے دوران افغان صورتحال پر پاکستان کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔

افغانستان میں لڑائی میں شدت کے حوالے سے رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس وقت جنگ افغانستان کے شمال میں ہو رہی ہے، جو کہ پاکستانی سرحد سے بہت دور ہے، اور وہاں پر انہیں فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔ بقول ان کے، یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان میں ہر کارروائی کی خاطر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا، اور افغانستان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہو گا۔

رحیم اللہ یوسفرزی کا مزید کہنا تھا کہ افغان وفد کی خواہش ہو گی کہ امریکہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے کہ طالبان کو فوجی اقدام کے بجائے افغانستان کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے۔

غیر ملکی افواج کا انخلا، افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ





please wait



No media source currently available

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بقول ان کے، حقیقت میں پاکستان کی پوزیشن بہت محدود ہے اور اب دیگر ‘پلیئر’ بھی افغانستان میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایک سابقہ افغان آرمی چیف نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ”اگر پاکستان چاہے تو ایک دن میں افغانستان میں جنگ رُک سکتی ہے اور امن قائم ہو سکتا ہے”۔

افغان امور کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ ایسی باتوں کا حقیقت سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے، کیونکہ اس جنگ کے کئی عوامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب 2001 میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو بقول ان کے چند طالبان لیڈر اپنے خاندان سمیت پاکستان آئے۔

افغان قیادت ایک ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کر رہی ہے جب افغانستان میں لڑائی عروج پر ہے۔ طالبان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ طالبان دعویٰ کر رہے ہیں کہ مئی سے لے کر اب تک وہ 100 سے زائد اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں۔

ادھر امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد طالبان ایک سال کے اندر کابل کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق امریکی سیکریٹری برائے سیاسی امور کی سفیر وکٹوریہ نولینڈ نے سیکریٹری خارجہ سہیل محمود سے بذریعہ ٹیلی فون بات کی ہے جس میں انoوں نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبدلہ خیال کیا۔

بات چیت کے دوران سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے افغان امن مذاکرات میں تیزی لانے اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دارانہ انخلا کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام افغان جماعتوں کو ایک جامع، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کے حصول کے لئے تعمیری طور پر مصروف عمل ہوں۔

افغان قیادت کے دورہ امریکہ کے حوالے سے سابق سفارتکار اور افغان امور کے ماہر، رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ یہ دورہ افغان صدر کی بقا کی آخری کوشش معلوم ہوتا ہے۔



تصویر: وی او اے

ان کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ صدر بائیڈن کو باور کرا سکیں کہ افغانستان کی موجودہ حالات کی وجہ بیرونی قوتوں کی مداخلت ہے، اس لئے امریکہ کو چاہئے کہ طالبان اور پاکستان پر پریشر بڑھائے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ اب یہ امریکی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لیں آیا وہ ایک ایسی حکومت ہے جس کا کنٹرول مکمل طور پر ناپید ہو چکا ہے۔ اس کے فوجی اس کا ساتھ ٹینکوں اور اسلحہ سمیت چھوڑ رہے ہیں، کیا امریکہ ایسی حکومت کو بچانے کے لئے مزید اقدامات کرے گا؟ یہ اب انکی صواب دید ہے۔

تاہم، رستم شاہ مہمند کے مطابق صدر اشرف غنی اپنی حکومت کے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ امریکی ان سے متفق ہو جائیں گے۔

سابق سفیر کا مزید کہنا تھا کہ افغان مسئلے کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے، جس کے مطابق ایک لویہ جرگہ بلایا جائے جو کہ ایک نگران حکومت کا قیام عمل میں لائے جس میں طالبان سمیت باقی دھڑے بھی شامل ہوں اور افغانستان کے مستقبل کا روڈ میپ کا تعین کرے۔

بقول ان کے، موجودہ سیٹ اپ کے مطابق نہ حکومت چل رہی ہے اور نہ ہی عوام تک اس کے اثرات پہنچ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے