بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی کی
تازہ کارروائی کے دوران ضلع راجوری میں ایک اور نوجوان کو شہید کر دیا۔ شہید ہونے والے نوجوانوں
کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے سندربنی میں تلاشی اور محاصرے
کے دوران شہید کیا۔ کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے بھارتی فوج کا جونیئر کمیشنڈ افسر بھی چل بسا۔
29جون کو شروع ہونے والی کارروائی کے دوران اب تک دو بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارتی فوجیوں نے ضلع کولگام کے علاقے ریڈونی میں بھی کارروائیاں کی ہیں علاقوں میں فائرنگ کی
آوازیں سنی جارہی ہیں۔ انتظامیہ نے کولگام اور پلوامہ میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی ہے۔
دوسری جانب دلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طور پر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے
سینئر رہنماء شبیر احمد شاہ نے کہا ہے بھارتی حکومت نے انہیں جیل میں مرنے کیلئے کورونا وائرس
کے مریضوں کے ساتھ رکھا ہوا ہے لیکن میں جدوجہد آزادی کشمیر کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش
کرنے کیلئے تیار ہیں۔
شبیر شاہ نے تہاڑ جیل سے ٹیلی فون پر سری نگر میں اپنی بیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا وہ ان
کی رہائی کیلئے اپیل نہ کریں انہوں نے کشمیری عوام سے تنازعہ کشمیر کے حل تک جدوجہد آزادی
جاری رکھنے کا عہد کر رکھا ہے۔
