اردن کی عدالت نے شاہی عدالت کے سابق سربراہ کو بادشاہت کو غیر مستحکم بنانے کی سازش کے الزام میں 15 سال کی قید کی سزا سنا دی۔
اردن کی عدالت نے سابق شاہی معتمد باسم اوداللہ کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان کے ایک نابالغ کو بھی مبینہ طور پر اسی جرم کے تحت 15 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ اُس کے پاس ان الزامات کے مصدقہ ثبوت موجود ہیں کہ یہ دونوں اردن کی بادشاہت کو نقصان پہنچانے کا عزم رکھتے تھے اور اس کے لیے وہ بادشاہت کے سابق وارث شہزادہ حمزہ کو بادشاہ کے متبادل کے طور پر تخت نشیں دیکھنا چاہتے تھے۔
