English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘ان افراد کو جنہیں سماعت کے دوران باضابطہ نوٹس جاری نہیں ہوئے، امریکہ سے ملک بدر نہیں کیا جا سکتا’

امریکہ کی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے ان تارکین وطن کے لیے امید کی کرن پیدا کردی ہے، جنہیں امریکہ سے ان کے اپنے ملک واپس بھیجے جانے کا سامنا تھا۔

ایک مقدمے پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نشاندہی کی ہے کہ اس میں ایسے افراد شامل ہیں جنہیں ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن انہیں عدالتی کارروائی کے مناسب نوٹس سے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد متاثرہ امیگرینٹس یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کی ملک بدری کا حکم منسوخ کردیا جائے گا اور وہ امریکہ میں رہ سکیں گے۔

مروجہ طریقہ کار کے مطابق ڈی پورٹیشن کے کیسز میں امریکہ کا امیگریشن اینڈ لا انفورسمنٹ ادارہ دو نوٹسز بھیجتا ہے۔ پہلے نوٹس کے بعد ایک اور نوٹس بھیجا جاتا ہے جس میں عدالتی سماعت کی تاریخ بھی درج ہوتی ہے۔

لیکن اب عدالت عظمیٰ نےکہا ہے کہ وفاقی قانون کی تمام چیدہ چیدہ معلومات ایک ہی نوٹس میں درج کی جانی چاہیئیں۔



فائل فوٹو

امیگریشن سے متعلق وکلا اور تارکین وطن کے حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ کئی سال پہلے سے اب تک کے کئی کیسوں پر اثر انداز ہوگا۔

خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک تفصیلی خبر میں ایسے ہی ایک امیگرینٹ لوسیو پیریز کی مثال دی ہے جو امریکہ سے نکالے جانےسے بچنے کے لیے تین برسوں سے ریاست میساچوسیٹس کے مغرب میں واقع ایک گرجا گھر میں رہ رہے تھے۔

اس سال مارچ میں گوئٹے مالا سے آنے والے 40 سالہ پیریز کو عدالت نے ان کے مقدمے پر نظر ثانی کے دوران عارضی طور پر امریکہ میں رہنے کی اجازت دی تھی۔

اب عدالت کے اس فیصلے کے بعد پیریز سمجھتے ہیں کہ ان کے امریکہ میں مستقل رہنے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے اور اب وہ امریکہ میں، جسے وہ دو عشروں سے اپنا گھر سمجھتے ہیں، سکونت اختیار کر سکیں گے۔

پیریز نے کہا کہ اس فیصلے کے آنے سے پہلے وہ اپنے آپ کو پنجرے میں مقید ایک پرندہ سمجھتے تھے، لیکن اب وہ باہر کھلی فضا میں آکر زندگی گزار رہے ہیں اور وہ اس فیصلے کے آنے پر عدالت کے بہت ہی ممنون ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں امریکہ کے امیگریشن ادارے کے اس طریقہ کار پر تنقید کی تھی جس کے ذریعے وہ امیگرینٹس کو ان کے آبائی ملک بھیجنے سے متعلق دو مرحلوں میں مطلع کرتا رہا ہے۔ فاضل جج جسٹس نیل گورسچ نے کہا کہ ڈی پورٹیشن کےمعاملےمیں یہ طریقہ کار وفاقی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس سلسلے میں انہوں نے 1996 کے اس امیگریشن قانون کا حوالہ دیا جس کے مطابق کانگریس یہ چاہتی تھی کہ حکومت کو ایک نوٹس کے ذریعہ اپنے آبائی ملک واپس بھیجے جانے والے افراد کو اطلاع دینی چاہیے۔

جج گورسچ نے کہا کہ بظاہر یہٖ عدالتی فیصلہ ایک چھوٹے سے لفظ کے متعلق دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ الفاظ ہی ہیں جو قوانین کو طاقتور بناتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے