English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آن لائن نسل پرستانہ حملے کرنے والوں پر برطانیہ میں فٹ بال دیکھنے پر پابندی

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کی حکومت یورو کپ کے فائنل میں برطانیہ کی اٹلی کے ہاتھوں شکست کے بعد سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ حملوں میں ملوث افراد کے آئندہ کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

یورو کپ میں شکست کے بعد برطانیہ کی فٹ بال ٹیم کے تین سیاہ فام کھلاڑیوں کے نسل پرستی کا نشانہ بننے کے بعد قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ اب عمل کا وقت آگیا ہے۔

یاد رہے کہ یورو کپ کے فائنل میں تینوں سیاہ فام کھلاڑی پنلٹی ککس کے دوران گول کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کے بعد انہیں آن لائین نسل پرستانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



فائنل کا فیصلہ پینلٹی ککس پر ہوا۔

برطانیہ کی حکومت نے طے کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ حملوں کو ان جرائم کی فہرست میں شامل کیا جائے گا، جن کے نتیجے میں کھیل کے مداحوں کے میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں جانے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

جانسن نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم سے ہفتہ وار سوال و جواب کے سیشن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایسے عملی اقدامات کئے جائیں کہ فٹ بال میں پابندی عائد کرنے کے قوانین تبدیل ہوں، تاکہ اگر آپ آن لائین دشنام طرازی کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو پھر آپ میچ دیکھنے نہ جا سکیں۔ اس مقصد میں کسی اگر مگر سے کام نہیں لیا جائے گا اور نہ کسی کو چھوڑا جائے گا اور نا ہی کوئی بہانہ سنا جائے گا۔‘‘

گھوڑے پر بیٹھ کر تیر اندازی کرنے والی پاکستانی خواتین





please wait



No media source currently available

برطانیہ میں عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ میچ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزیوں پر، جن میں خراب رویہ اختیار کرنا اور سٹیڈیم میں ہتھیار لانا شامل ہے، دوبارہ سٹیڈیم میں داخلے پر پابندی عائد کر سکتی ہیں۔

اگرچہ بہت سے مداحوں نے تینوں سیاہ فام کھلاڑیوں مارکس رشفورڈ، جیڈن سانچو اور بوکایو ساکا پر سوشل میڈیا پر جاری حملوں کے جواب میں ان کی حمایت بھی کی ہے لیکن خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں فٹ بال کی تاریخ میں نسل پرستی ایک پرانا مسئلہ ہے جس پر حکام نے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مصنف اور ایکٹر ایلی ٹیلر نے بوکایو ساکا کے بارے میں لکھا کہ ان پر 19 برس کی عمر میں قوم کی امیدوں کا انحصار ہے۔

ایک اور صارف لطیف نے لکھا کہ یہ ضروری نہیں کہ لوگ رشفورڈ، سانچو اور ساکا کی خدمات کا تذکرہ کریں۔ احترام اور نسل پرستی سے پاک رویوں کی کوئی شرائط نہیں ہونی چاہئے۔

اتوار کے روز اٹلی اور برطانیہ کے مابین ہونے والے یورو کپ کے فائنل کے دوران ہونے والی بدنظمی کے الزام میں پولیس نے ویمبلے سے 26 اور مرکزی لندن سے 25 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے