English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمنی کی چانسلر مرکیل کی بائیڈن سے ملاقات، دوطرفہ اور عالمی امور پر بات چیت

امریکی صدر جو بائیڈن نے آج جمعرات کو جرمن چانسلر اینگلا مرکیل کا وہائٹ ہاؤس میں خیر مقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات اوول آفس میں ہوئی۔

اینگلا مرکیل کے امریکہ کے اس دورے میں خیر سگالی کے جذبات کے ساتھ ساتھ بعض اہم مسائل کے بادل بھی موجود ہیں، جن میں روس کی گیس پائپ لائن، جس کی امریکہ مخالفت کرتا ہے، اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں دونوں ممالک کے نظریات شامل ہیں۔

اپنے 16 سالہ اقتدار کے اختتام سے پہلے مرکیل کا یہ واشنگٹن کا آخری دورہ ہے۔ جرمنی میں 26 ستمبر کے انتخابات میں مرکیل ایک اور مدت کے لئے امیدوار نہیں ہوں گی۔

نامہ نگاروں کے ساتھ مختصر گفتگو میں فریقین نے ان اختلافات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

صدر بائیڈن نے کہا، "ہم اس پر توجہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ امریکہ اور جرمنی کے درمیان تعاون مضبوط رہا ہے۔”

چانسلر مرکیل نے، جن کے تعلقات صدر بائیڈن کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ سے سرد مہری کا شکار رہے، کہا کہ وہ تعلقات مزید گہرے ہونے کی منتظر ہیں۔

جرمنی کی چانسلی مرکیل، بالٹی مور میں قائم جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے ڈاکڑیٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی کے چیئرمیں ڈونلڈ ڈینیئلز کے ہمراہ۔ 15 جولائی 2021

جرمنی کی چانسلی مرکیل، بالٹی مور میں قائم جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے ڈاکڑیٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی کے چیئرمیں ڈونلڈ ڈینیئلز کے ہمراہ۔ 15 جولائی 2021

مرکیل کے دورے کا آغاز ورکنگ بریک فاسٹ سے ہوا جس کا اہتمام امریکی نائب صدر کاملہ ہیرس نے کیا تھا اور جن کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان کے درمیان بے تکلفی سے بات چیت ہوئی۔

مرکیل کا جرمنی اور ہمسایہ ملک بیلجئم، شدید سیلاب کے بعد کی صورتِ حال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں 60 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہیں۔

مرکیل نے کہا کہ، "میری ہمدردیاں ان لوگوں کے عزیزوں کے ساتھ ہیں جو ہلاک ہو گئے یا لاپتہ ہیں۔ "

برلن کے ایک تھنک ٹینک جرمن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ سیکیورٹی افئیرز کے ایک سینئیر فیلو جوھانس ٹم کہتے ہیں، "ایک لحاظ سے ان کا یہ دورہ ایک الوداعی دورہ ہے اور امریکہ اور جرمنی کے تعلقات میں تسلسل اور استحکام کا اشارہ بھی۔”

واشنگٹن میں اور دیگر مقامات پر بہت سے عہدیداروں کو تجسس ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد جرمنی کیا راہ اختیار کرے گا۔

تاہم، ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ٹم کہتے ہیں کہ چانسلر اپنے عہد کے دوران امریکہ کے چار صدور کا دور دیکھ چکی ہیں اور وہ امریکیوں کو یہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

واشنگٹن میں جرمن چانسلر اینگلا مرکیل اور امریکی نائب صدر کاملہ ہیرس کے درمیان ملاقات۔ 15 جنوری 2021

واشنگٹن میں جرمن چانسلر اینگلا مرکیل اور امریکی نائب صدر کاملہ ہیرس کے درمیان ملاقات۔ 15 جنوری 2021

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتخابی دوڑ میں مرکیل کی پارٹی آگے ہے۔ مگر ماحولیاتی تبدیلی کے ایجنڈے والی گرینز اور مرکز میں بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس بھی اقتدار کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں۔ اگرچہ تمام جماعتیں پالیسی کے لحاظ سے مختلف نظریہ رکھتی ہیں، تاہم ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے بحرِ اوقیانوس کے پار مضبوط تعلقات۔

اگرچہ جرمن عہدیداروں نے مرکیل کے دورہ واشنگٹن میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا مگر مرکیل کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین پر بات ضرور ہو گی۔

چین کے ساتھ جرمنی کے مضبوط تجارتی تعلقات ہیں مگر جرمنی چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر نکتہ چینی بھی کرتا ہے۔ تاہم مرکیل ایسی صورتِ حال سے گریز کرتی ہیں جہاں جرمنی یا یوروپی یونین کو چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔

مرکیل ماحولیاتی تبدیلی اور کرونا وائرس کی وبا جیسے عالمی مسائل پر چین کے ساتھ تعاون پر زور دیتی رہی ہیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب سابق صدر ٹرمپ کا الزام تھا کہ کووڈ-19 کی وباء چین نے شروع کی ہے۔

انسانی ہمدردی کی تنظیم، ڈاکٹرز ود اؤٹ بارڈرز نے صدر بائیڈن سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکیل سے کہیں کہ وہ ویکسین کے املاکِ دانش کے حقوق ختم کرنے کی تجویز کی مخالفت ترک کر دیں۔ مرکیل جو خود بھی ایک تربیت یافتہ سائنس دان ہیں، دلیل دیتی ہیں کہ املاکِ دانش کے حقوق ختم کرنا مؤثر نہیں ہو گا اوراس سے مستقبل میں تحقیق اور تیاری کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اگرچہ بائیڈن انتظامیہ تجارت کی عالمی تنظیم کے اجلاس میں ان حقوق کو ختم کرنے کی حمایت کر چکی ہے مگر وہائٹ ہاؤس کے عہدیدار خیال کرتے ہیں کہ یہ اختلافات مرکیل کے دورے میں حل نہیں ہوں گے۔

اختلافات اپنی جگہ مگر صدر بائیڈن مرکیل کو ان کے اقتدادر کے خاتمے پر باوقار انداز میں الوداع کہنا چاہتے ہیں۔

(اس خبر میں بعض معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئی ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے