وزیر اعظم عمران خان کے معتمد خاص زلفی بخاری کی وفاقی کابینہ میں واپسی کے لیے کی جانے والی تمام
کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب زلفی بخاری کو کابینہ میں
واپس نہیں لیا جائے گا۔
اسلام آباد رنگ روڈ منصوبے میں نام آنے پر وزیرا عظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی
بخاری سے گزشتہ ماہ کے وسط میں استعفی لے لیا گیا تھا۔
رنگ روڈ منصوبے میں تبدیلی سے سیاستدانوں کو فوائد پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ سیاستدانوں میں
زلفی بخاری اور وفاقی وزیر غلام سرور سرفہرست تھے۔
زلفی بخاری نے استعفی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بے بنیاد الزام سے خود کو بری الزمہ قرار دلواکر کابینہ میں
واپس آئیں گے۔ گزشتہ دنوں ڈی سی راولپنڈی کی رنگ روڈ اسکینڈؒل میں گرفتاری کے بعد زلفی بخاری کے کزن
اور پنجاب اسمبلی کے رکن یاور بخاری نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ بے شک اللہ ہی عزت اور زلت
دینے والا ہے۔
ٹوئیٹ کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ زلفی بخاری بے گناہ ہیں اور رنگ روڈ اسکینڈل میں
بیورو کریسی ملوث تھے۔
خیال رہے سیاستدانوں کے اس کیس میں ملوث ہونے سے متعلق فیصلہ اب نیب نے کرنا ہے۔ زلفی بخاری اور
غلام سرور ابھی اس کیس سے بری الزمہ نہیں ہوئے ہیں۔
وزیراعظم ہاوس کے ذرائع کا کہنا ہے زلفی بخاری کی کابینہ میں اب دوبارہ شمولیت کا کوئی امکان نہیں۔
کابینہ کے دروازے اور کھڑکیاں زلفی بخاری کے لیے بند کی جاچکی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا زلفی بخاری بہت زیادہ اعمتاد تھا اور حکومت سازی سے لے کر وزرا کی کابینہ
میں شمولیت تک اس میں زلفی بخاری کا بہت زیادہ عمل دخل رہا
لیکن رنگ روڈ اسکینڈل اور دیگر معامالات کے بعد غیرسرکاری طور پر ڈپٹی وزیرا عظم سے مشہور زلفی بخاری
عمران خان کی قربت سے محروم ہوتے چلے گئے
