English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی کے بھارت میں انٹرنیٹ کی آزادی سلب

بھارت میں ڈیجیٹل فریڈم کا دائرہ سکڑتا جارہاہے

نئی دہلی(ساوتھ ایشین وائر)
رواں برس فروری میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد سے بھارتی حکومت اور ٹوئٹر کے تعلقات ابھی تک نارمل نہیں ہو سکے ہیں۔

Indien Neu Delhi | United Hindu Front | Protest gegen Thunberg, Rihanna & Harris

فروری سے، جب امریکی پوپ اسٹار ریحانا نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بھارتی کسانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ایک ہی ٹوئٹ کے بعد سوشل میڈیا بالخصوص مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی کسانوں سے ہمدردی ظاہر کرنے غیر ملکیوں والوں کی قطار لگ گئی۔
اس واقعے نے بھارتی حکومت اور ٹوئٹر کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناو پیدا کر دیا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نئی دہلی کے اصرار کے باوجود ابتدائی طور پر ٹوئٹر نے متنازعہ ٹوئٹس ڈیلیٹ نہ کیں اور مودی کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی یہ کہہ کر کارروائی بھی نہیں کی کہ یہ آزادی رائے کا معاملہ ہے۔
تاہم بھارتی حکومت نے سینکڑوں تنقیدی ٹوئٹس کو بلاک کر دیا۔ بعدازاں ٹوئٹر نے بھارتی حکومت کے شدید اعتراض پر کچھ ٹوئٹس بلاک کر دیں جبکہ زیادہ تر پر سمجھوتہ نہ کیا۔ اسی دوران بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ سے متعلق قوانین میں ترامیم کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک اور ٹوئٹر کو براہ راست ملکی حکومت کے رحم و کرم پر لا کھڑا کیا۔
مودی حکومت کا کہنا ہے کہ نفرت انگیزی، غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کے پھیلا کو روکنے کی خاطر یہ ترامیم ناگزیر تھیں تاہم انسانی حقوق کے کارکنان کو پریشانی لاحق ہے کہ یہ نئے قوانین کہیں سنسر شپ کا موجب بنتے ہوئے ناقدین اور حکومتی منحرفین کی آوازیں مکمل طور دبا ہی نہ دیں۔
یہ امر اہم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کی طرف سے 2014میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ڈیجیٹل فریڈم سکڑتا جا رہا ہے۔
بھارتی پولیس نے ملک میں واقع ٹوئٹر کے دفاتر میں چھاپے مارے اور انڈیا میں ٹوئٹر کے چیف منیش مہیش واڑی پر الزامات عائد کیے کہ وہ نسلی منافرت اور بھارتیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
احتجاجی کسانوں کی حمایت کرنے پر سخت گیر ہندووں نے مختلف مغربی شخصیات کے خلاف احتجاج بھی کیا
مبصرین کے مطابق بھارتی حکومت اس طرح سے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دباو ڈالنے کی کوشش میں ہے۔
لامینار گلوبل ایںڈ ٹوئٹر کے شریک بانی راحیل خورشید نے جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا منصوبہ ہے کہ اس ملک میں بھی انٹر نیٹ پر اتنی پابندیاں لگا دی جائیں، جیسا کی چین میں ہے۔
بھارت میں واقع پولیٹیکس، پالیسی اینڈ گورنمنٹ نامی تھنک ٹینک کے سابق سربراہ خورشید نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھارتی انٹر نیٹ کیسا ہو گا؟ اس بات کا تعین اس وقت ٹوئٹر کے ساتھ ہونے والے سلوک سے لگایا جا سکتا ہے۔
ایک بلین نفوس سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت کوانٹر نیٹ بزنس کے لیے بھی ایک سونے کی چڑیا قرار دیا جاتا ہے، جہاں ایک اندازے کے مطابق 2025تک نو سو ملین افراد کو انٹر نیٹ کی سہولت دستیاب ہو گی۔
سبھی انٹر نیٹ کمپنیوں کو علم ہے کہ بھارت اس حوالے سے ایک بڑی منڈی ہے اور ہر کمپنی بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ صارفین کو خدمات پہنچانے کے لیے بے قرار ہے۔
مودی حکومت کی طرف سے متعارف کرائے گئے نئے قوانین ان کمپنیوں کے لیے باعث تشویش ہیں۔ فروری میں نافذ ہونے والے ان قوانین کا اطلاق نہ صرف سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے بلکہ تمام اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل نیوز کی کمپنیاں بھی ممکنہ طور پر ان سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت میں مودی حکومت کی زرعی پالیسی کے خلاف کسانوں کی احتجاجی تحریک ابھی بھی زندہ ہے.ان قوانین کی روشنی میں اگر بھارتی حکومت ان کمپنیوں کو کہے کہ کوئی مواد غیر قانونی ہے اور اسے اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے تو ان کمپنیوں کے پاس اس حکومت کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
اس صورت میں انٹر نیٹ کمپنی کو 36گھنٹوں میں مواد ہٹانا ہو گا ورنہ اس کے خلاف مجرمانہ نوعیت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
اب صارفین بھی ان کمپنیوں کو متنازعہ مواد اپنی ویب سائٹ سے ہٹانے کی درخواست کر سکیں گے۔ کمپنیوں کو اس بات کا پابند بھی بنا دیا گیا ہے کہ وہ ایسا سٹاف مقرر کریں، جو صارفین کی شکایات کو فوری جواب دینے کے قابل ہو اور ساتھ ہی حکومتی درخواستوں کو فوری نوٹس لے۔
انٹر نیٹ فریڈم فانڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آپار گپتا کا کہنا ہے کہ ان نئے قواعد وضوابط کے تحت انٹر نیٹ پلیٹ فارمز پر پابندی انتہائی آسان ہو جائے گی اور اس طرح وہ سیلف سنسر شپ کا شکار ہو جائیں گے اور حکومتی خوف کی وجہ سے آزادی رائے و صحافت سے لطف اندوز ہونے میں ناکام ہوجا ئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے