کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 2020 سے زیادہ تر بند ہی رہے ہیں۔ کچھ وقت کے
لیے کھلتے ہیں لیکن پھر کووڈ 19 کے پیش نظر بند کردیے جاتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم انٹرنیٹ کے ذریعے گھروں سے ہی کی جارہی تھی لیکن اب تو چھٹیاں ہیں۔ انٹرنیٹ کا
بوجھ بھی والدین کے سرپر ڈال دیا گیا اور فیسوں کی کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی۔ بس کچھ وقت
کے لیے 20 فیصد کم کی گئی لیکن پھر سے مکمل 100 فیصد فیسوں کی وصولی کے چالان والدین کو
واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے بھیجے جارہے ہیں۔
اسکولوں کی بڑی چینز لاہور گرامر اسکول، سٹی گرامر اسکول، بیکن ہاؤس، الائیڈ اسکول اور دیگر کی
جانب سے فیسوں کے دباؤ بڑھتا ہی جارہا ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے اور بیشتر ملازمتوں سے فارغ کر دیے گئے
لیکن اسکولوں کی فیسوں کی ادائیگی بدستور اسی طرح سے جاری و ساری ہے۔
والدین نے پہلے بھی آواز اٹھائی لیکن ان کی نہ سنی گئی۔ سنے کیسے جاتی کیونکہ قانون سازی میں
اسکول مالکان براہ راست ملوث ہیں اگر وہ نہیں تو پھر ان کے حمایت یافتہ اراکین پارلیمنٹ وہاں
موجود ہوتے ہیں۔
اب تک اسکول اور کالجز کے بڑے بڑے نیٹ ورک رکھنے والے بھی میڈیا ہاؤسز کے مالکان بن چکے ہیں۔
اسی وجہ سے اب میڈیا پر بھی تعلیمی اداروں کے کردار پر بات نہیں کی جاتی اگر کوئی چینل نیوز چلا
بھی دیتا ہے تو دوسرا مالک یا ان کے بیورو چیف فون کر کے خبر رکوادیا کرتے ہیں۔
حکومتیں جب تعلیم اور صحت سے متعلق اپنی زمہ داریاں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیتی ہیں
تو پھر لوٹ مار کا بازار اسی طرح سے گرم رہتا ہے۔
اخبارات اور ٹی وی چینلز پر تو فیسوں کا ایشو ممنوع قرار دیا جاچکا ہے اب بس صرف سوشل میڈیا
رہ گیا ہے جہاں آواز اٹھائی جاسکتی ہے۔ اسی لیے والدین نے سوشل میڈیا پر پھر سے موثر انداز میں
آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
والدین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جب تک کورونا وائرس ہے فیسوں کی وصولی روکنے کا اعلان
کیا جائے اور ان اسکولوں کو ٹیچرز کی تنخواہوں کے لیے حکومت سہولت فراہم کرے
