اسلام آباد میں بارش کے بعد ہونے والی تباہی اور اموات کی نیوز چینلز پر کوریج نے حکومت مسلسل
ناراضی کا اظہار کر رہی تھی لیکن اب پیمرا نے ٹی وی چینلز کو باقاعدہ لیٹر جاری کر دیا ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے نیوز چینلز سے کہا ہے کہ انہیں موسمیاتی تبدیلی اور
عام بارش میں فرق کا بھی علم نہیں، جس طرح چینلز نے اسلام آباد کی بارش کے سبب گھروں میں بھرنے
والے پانی اور گاڑیوں کے تیرنے کی ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور فیس بک سے ویڈیو اٹھا اٹھا کر نشر کی
ہیں اس نے ان کے پروفیشنل ازم پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پیمرا نے خط میں لکھا ہے کہ ٹی وی چینلز کو اپنے رپورٹر اور کیمرہ مین کو واقعہ کی جگہ پر بھیجنے چاہیے
تھے جو انہوں نے نہیں بھیجے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے کلپس باربار دیکھاتے رہے۔
پیمرا نے کہا ہے کہ بلیٹنز میں ایک ہی خبر بار بار نہیں چلائی جانی چاہیے ترقیاتی کام یا دیگر خبروں
کو بھی جگہ دینی چاہیے۔ ان کا اخلاقی فرض بھی ہے کہ لوگوں کو مختلف نوعیت کی خبریں دیکھائیں۔
حیرت انگیز طور پر پیمرا کے لیٹر میں اسلام آباد سیکٹر ای الیون میں بارش والی سوشل میڈیا پر وائرل
ہونے والی کسی ایک ویڈیو کو بھی جعلی قرار نہیں دیا گیا۔
پیمرا کے اس نوٹس پر نیوز چینلز کے ڈائریکٹرز نیوز نے حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ اب ہمیں حکومت کا
ادارہ نیوز کی کوریج کرنا سکھائیں گے۔ اس سے پہلے کراچی سمیت سندھ میں بارش سے تباہی والی فوٹیج
دیکھانے پر کبھی وفاقی حکومت اور پیمرا نے نوٹس نہیں لیا لیکن اسلام آباد میں کارکردگی کا قلعی
اترنے پر سب نے شور کرنا شروع کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے ڈائریکٹر نیوز کی تنظیم نے اس مضحکہ خیز خط کا مفصل جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیونکہ ایسا کسی دور میں نہیں ہوا کہ میڈیا کو اس طرح سے ڈکٹیٹ کیا جائے۔
