پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز، سیریز جیتنےوالی پاکستان ٹیم کی تیاریوں کو دھچکا
کیا ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت کر بھی پاکستان ٹیم ہار گئی؟
عمیر علوی
پاکستان کرکٹ ٹیم نے عالمی چیمین ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز تو جیت گئی، لیکن اس کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل تیاریوں کو ایک بڑا دھچکا لگا، گرین شرٹس ویسٹ انڈیز میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لئے فائنل الیون کا کمبی نیشن بنانے گئےتھے، لیکن انہیں پہلے میچز کی تعداد میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، پھر چار میں سے تین میچز بارش کی نذر ہوگئے۔
https://twitter.com/ICC/status/1422626745052717063?s=20
نقصان تو گرین شرٹس اور ویسٹ انڈیز دونوں کابرابر ہوا، لیکن گزشتہ دو ماہ کے دوران ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف پانچ پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل کر، میگا ایونٹ سے قبل اپنے اسکواڈ کو تقریبا فائنل لرلیا، لیکن پاکستان ٹیم وہاں میچ کھیلنے اور پلان بنانے گئی تھی، اور صرف پکنک ہی مناسکی۔
https://twitter.com/TheRealPCB/status/1422625128870039555?s=20
جب قومی ٹیم نے کیریبین میں قدم رکھا، تو اس وقت ٹی ٹوئنٹی سیریز پانچ میچز پر مشتمل تھی، لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظو ر تھا۔اس لئے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی کورونا کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا، اور سیریز کو چار میچز تک محدود کردیا گیا۔
https://twitter.com/cricketpakcompk/status/1422637552897597441?s=20
پہلا میچ بارش کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا، جبکہ دوسرا میچ پاکستان نے صرف سات رنز سے جیتا ، اور اس کے بعد ہونے والے باقی دونوں میچ بارش کی نذر ہوگئے۔پہلے، تیسرے اور چوتھے نامکمل میچ میں مجموعی طور پر صرف 13.2 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکا، جس میں ویسٹ انڈین بلے بازوں نے بیٹنگ، اور پاکستانی ٹیم نے بالنگ اور فیلڈنگ کی پریکٹس کی۔
https://twitter.com/circleofcricket/status/1422624294215970816?s=20
سیریز جیتنےکے باوجود شایقین کا غم و غصہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا!
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل گیانا میں کھیلا گیا، جس میں صرف تین اوورز کا کھیل ہوسکا، ان تین اوورز میں ویسٹ انڈین اوپنرز نے 30 رنز بنائے۔
https://twitter.com/ESPNcricinfo/status/1421544729116770305?s=20
لیکن اپنے بالرز کی پٹائی سے زیادہ شایقین کو غصہ ان لوگوں پر تھا جنہوں نے ٹیکنالوجی کے دور میں رہنے کے باوجود سیریز کے میچز ایک ایسی جگہ پر کھیلنے کی حامی بھری جہاں کھیل کم، اور بارش زیادہ ہوتی ہے۔
https://twitter.com/ESPNcricinfo/status/1422626311063834626?s=20
اس سیریزمیں کامیابی نے بابر اعظم کی کپتانی کے ریکارڈ کو تو بہتر کردیا ہوگا، لیکن شایقین کرکٹ کا غصہ ہے کہ تھم ہی نہیں رہا۔
https://twitter.com/kingbabarazam/status/1422643279854772230?s=20
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کسی نے مقامی کرکٹ انتطامیہ کے ساتھ ساتھ دونوں بورڈز کوبھی آڑے ہاتھوں لیا، کسی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز میں کرکٹ میچز کرانے پر پابندی لگادینا چاہئے، تو کسی نے بارش کو تین ایک سے سیریز کا فاتح قرار دیا۔
https://twitter.com/deeputalks/status/1422620836972826625?s=20
https://twitter.com/KalashanKlopp/status/1422629336755097600?s=20
https://twitter.com/PrinceePukhtun/status/1421842203526246401?s=20
ایک شائق کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان سیریز کھیلنے کا بہترین طریقہ انڈر واٹر کرکٹ ہے۔
https://twitter.com/AddiMalik17/status/1422111134740590592?s=20
پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز تو جیت لی، لیکن وہ تیاری نہ کرسکے جس کی انہیں امید تھی، اب دونوں ٹیموں کے درمیان 12 اگست سے ٹیسٹ سیریز شروع ہوگی، جس میں جمیکا میں دو میچز کھیلے جائیں گے۔
https://twitter.com/CricWick/status/1422213475510665218?s=20
پاکستان کے کئی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ ٹیم دونوں کا حصہ ہیں، انہیں ویسٹ انڈیز میں کھیلنے کا تجربہ بھی حاصل ہوگیا، لیکن اس بات کی ابھی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ ٹیسٹ سیریز بارش سے متاثر نہیں ہوگی۔
https://twitter.com/ESPNcricinfo/status/1421506068115378178?s=20
ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران بابر اعظم نے سب سے کم میچز میں 20 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل نصف سنچریوں کا ریکارڈ اپنے نام کیا، تو ان فارم محمد رضوان نے ایک سال میں سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی رنز بنانے کا ریکارڈ توڑا۔
https://twitter.com/faizanlakhani/status/1421502649069867011?s=20
پاکستانی وکٹ کیپر کے پاس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اس ریکارڈ کو دوسروں کی پہنچ سے آگے لے جانے کا موقع تو ملے گا، لیکن انگلینڈ کے خلاف اگر دو میچز بھی مل گئے، تو ان کی کارکردگی کو چار چاند لگ جائیں گے۔
کیا انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل پاکستان کا دورہ کرے گی؟
رواں سال اکتوبر اور نومبر میں کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل پاکستان ٹیم کے پاس صرف دو ٹی ٹوئنٹی میچز ہیں، جو وہ انگلینڈ کے خلف 14 اور 15 اکتوبر کو کراچی میں کھیلے گی۔
لیکن حالیہ فیصلوں سے لگتا ہے کہ اس سیریز کا انعقاد خطرے میں ہے، اور اگر یہ سیریز ہوئیں بھی، تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
https://twitter.com/gulftoday/status/1422562424109031429?s=20
اطلاعات کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ نے رواں سال ہونے والے دورہ بنگلا دیش کو ملتوی کرتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو انڈین پریمئر لیگ کھیلنے کی اجازت دی ہے، جو متحدہ عرب امارات میں 20 ستمبر سے شروع ہوگی، اور 10 اکتوبر کو اس کا فائنل کھیلا جائے گا۔
اگر حالات نارمل ہوتے تو انگلینڈ کی ٹیم کے وہ کھلاڑی کو آئی پی ایل کا حصہ ہیں، وہ ایک فلائٹ پکڑ کر پاکستان آجاتے، اور میچز کھیل کر پاکستان ٹیم کے ہمراہ ہی واپس متحدہ عرب امارات چلے جاتےجہاں 17 اکتوبر سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا آغاز ہوگا۔
لیکن یہ کرونا سے متاثرہ دور ہے، جس میں ہوائی سفر بے یقینی کا شکار ہے، جبکہ کھلاڑیوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کے بعد قرنطینہ میں کچھ دن گزارنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کسی کھلاڑی کا کوویڈ ٹیسٹ مثبت آجائے، تو سیریز کا شیڈول متاثر ہوسکتا ہے۔
اگر انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لئے ایک متبادل ٹیم بھیج بھی دی، تو اس میں وہ کھلاڑی شرکت نہیں کرسکیں گے جو آئی پی ایل میں ایکشن میں نظر آئیں گے، اور انہی وہ کھلاڑیوں میں وہ انگلش پلئیرز بھی شامل ہونگے جو ممکنہ طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اسکواڈ میں ہونگے۔
