وزیراعلی پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ایک بار پھر استعفی لے لیا
گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت پہلے وفاق اور اب پنجاب سے بھی انہیں ہٹا دیا گیا۔
ذرائع نے خبروالے کو بتایا ہے فردوس عاشق اعوان پارٹی کے اندر جاری جنگ کی ایندھن بنی ہیں۔
تحریک
انصاف کے دیگر رہنماؤں کی طرح انہوں نے جہانگیر ترین اور ان کے گروپ پر کڑی تنقید کے بجائے ہلکا
ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ یہ ادا کسی طور پر وزیر اعظم عمران خان کو پسند نہیں آئی۔
دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اپنی وزارت مکمل طور پر بیوروکریسی سے چلا رہے ہیں۔
عثمان بزدار زیادہ تر اپنے کام سیکریٹری انفارمیشن پنجاب راجہ جہانگیر اور پرنسپل سیکریٹری ٹو
وزیر اعلی طاہر خورشید کے ذریعے چلا رہے ہیں۔
پنجاب میں کئی بار بیوروکریسی میں اکھاڑ کی جاتی رہی ہے لیکن یہ دونوں اسی طرح کام کرتے رہے۔
کہا یہی جارہا ہے کہ پنجاب حکومت کو کسی موثر وزیر اطلاعات کی ضرورت نہیں کیونکہ راجہ
جہانگیر خود براہ راست اخبارات اور ٹیلی وژن مالکان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔
ٹی وی چینلز اور اخبارات کا زیادہ تر انحصار حکومتی اشتہار پر ہی ہوتا ہے اور اشتہارات سیکریٹری
اطلاعات نے ہی دینے ہوتے ہیں۔
یہ وجہ بھی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو لے بیٹھی لیکن زیادہ تر جہانگیر ترین کی مخالفت نہ کرنا
انہیں انتہائی مہنگا پڑ گیا۔
ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو بہبود آبادی کی وزارت دی جائے گی۔
اس وزارت کی پہلے بھی انہیں پیش کش کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔
ذرائع کہتے ہیں اس مرتبہ انہیں صرف محفوظ راستہ دینے کے لیے وفاق میں وزارت دینے کی خبریں
پھیلائی جارہی ہیں۔ اگر انہیں بہبود آباد کی وزارت کی دوبارہ پیش کش کی جاتی ہے تو وہ اس
مرتبہ خوشی خوشی قبول کرلیں گے کیونکہ اگلے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے وزارت معاون
ثابت ہوتی ہے۔
