English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سلامتی کونسل میں افغان نمائندے کا گمراہ کن پراپگنڈہ پاکستان نے مسترد کردیا

القمر

پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کے نمائندے کا گمراہ کن پراپگنڈہ مسترد کردیا ہے
ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی
کونسل میں ہونے والی بحث کا بغور مشاہدہ کیا ہے۔ افغانستان کے قریب ترین ہمسائے کے طورپر پاکستان
کو اس بحث میں مدعو ہونے سے روکنا افسوس ناک ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرچکی ہے۔
صدر سلامتی کونسل نے اجلاس میں پاکستان کو اپنا نکتہ نظر اور تجاویز پیش کرنے سے روکا۔

سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کے لئے استعمال ہونے دیا گیا۔ اجلاس میں
افغانستان کے نمائندے کے گمراہ کن پراپگنڈے اور بے بنیاد الزامات سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے ارکان کو اس معاملے پر اپنے نکتہ نظر اور موقف سے آگاہ کیا ہے۔
طالبان نے عبدالرشید دوستم کے شہر شیرگڑھ پر قبضہ کرلیا
زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کے لئے اپنا موقف عالمی برادری کے سامنے بڑی صراحت کے ساتھ بارہا پیش کرچکا ہے۔ ہم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔
مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی پائیدار امن وسلامتی کے لئے آگے بڑھنے کی واحد راہ ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے پاکستان کی تعمیری کوششوں اور عالمی برادری کی حمایت کے سبب ہی دوہا کا سنگ میل عبور ہوا۔ امریکہ طالبان امن معاہدہ اور بین الافغان مذاکرات کا انعقاد ان ہی کاوشوں کا مرہون منت ہے۔
بین الافغان مذاکرات کے ٹھوس نتیجے پر پہنچنے سے قبل اور امریکی و نیٹو افواج کے انخلاءکی تکمیل کے قریب افغانستان میں بڑھتے تشدد پر شدید تشویش ہے۔ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر پاکستان کو شدید تشویش لاحق ہے۔
تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ انسانی وعالمی قوانین کے احترام کو یقینی بنائیں۔ تمام افغان فریقین پر زور دیتے ہیں کہ فوجی طرز عمل سے اجتناب کریں۔ زوردیتے ہیں کہ افغان متحارب فریقین اجتماعیت کے حامل، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ کے لئے کام کریں۔
افغانستان کے اندر اور باہر سے خرابی پیدا کرنے والوں سے ہوشیار رہنا یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ خرابی پیدا کرنے والے نہیں چاہتے کہ افغانستان اور خطے میں امن واستحکام واپس آئے۔
افغان حکومت پر زور دیتے ہیں کہ الزام تراشی چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ بامعنی بات چیت کی طرف آئے۔ افغان حکومت خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے مسائل کے حل کے لئے پاکستان سے بامعنی گفتگو کرے۔
افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن واخوت کو باہمی رابطوں اور بات چیت کے لئے بروئے کار لایاجاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے