شہرقائد کے باسیوں کو ہر اہم موقع پر اذیت دینے کی کے الیکٹرک نے روایت برقرار رکھی ہے۔ کے الیکٹرک کسی بھی مذہبی یا قومی تہوار اور اہم مواقع پر صارفین کو تنگ کرنا نہیں بھولتی۔ محرم الحرام کی آمد کے باوجود شہر میں بجلی بحران دور نا ہو سکا۔
ہائی لاسز ایراز کے نام پر مختلف علاقوں میں ساڑھے سات سے نو گھنٹوں کے لیے بجلی بند کی جا رہی ہے۔مستثنیٰ علاقوں میں بھی مقامی فالٹس کے نام پر بجلی کی طویل بندش جاری ہے۔
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی شہر بھر میں ذکر سید الشہداء کی محافل منعقد کی جاتی ہیں۔مساجد و امام بارگاہوں کے علاؤہ گھروں اور دیگر مقامات پر بھی محافل منعقد ہوتی ہیں۔بڑے اجتماعات شام سے شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہتے ہیں۔ کے الیکٹرک کی روایتی صارفین دشمنی اس موقع پر شدت اختیار کر جاتی ہے۔
عام علاقوں سمیت حساس علاقوں میں بھی بلا تعطل بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔ ذکر سید الشہداء کی محافل بغیر بجلی کے بھی جوں کی توں جاری رہتی ہیں۔
بغیر بجلی کے بانیان محافل کو تو اتنا مسئلہ نہیں ہوتا جتنا سیکورٹی فورسز کو ہوتا ہے۔ ماضی میں بجلی بندش کے دوران کئی علاقوں میں ذکر سید الشہداء کی محافل پر دہشت گردی کی کاروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ دہشت گردی کی کاروائیوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
محرم الحرام کی آمد سے ہی صوبائی اور وفاقی حکومتیں کے الیکٹرک کو ایسے علاقوں اور مقامات پر بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کرتی ہیں۔لیکن ہر ہدایت کی طرح کے الیکٹرک ان ہدایات کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔
آج یکم محرم الحرام کو بھی شہر کے بیشتر علاقوں میں شہری ذکر سید الشہداء کی محافل اندھیرے میں کرنے پر مجبور ہیں۔
