روس کے وزیر دفاع سرگے شوئے گو نے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان کی ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ سرحدوں کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔
شوئے گو نے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ ایک فورم میں افغانستان کی حالیہ صورتحال کے بارے میں بیانات جاری کئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔ ملک کی ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ سرحدیں طالبان کے کنٹرول میں چلی گئی ہیں۔ صوبہ کندز جو ایک بڑا اور سنجیدہ اہمیت کا حامل مرکز ہے طالبان کے قبضے میں ہے۔
شوئے گو نے کہا ہے کہ افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردوں کے براستہ تاجکستان، کرغستان اور ازبکستان روس میں داخل ہونے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ اجتماعی سلامتی سمجھوتہ تنظیم کے رکن ممالک کا اس خطرے کے مقابل تیار رہنا ضروری ہے۔
وزیر دفاع سرگے شوئے گو نے کہا ہے کہ طالبان خواہ کتنا ہے کہتے رہیں کہ وہ سرحد پار کسی قسم کی تخریبی کاروائی نہیں کریں گے تاجکستان اور ازبکستان کی فورسز کا کسی بھی ممکنہ تحریکی کاروائی کے مقابل تیار حالت میں رہنا ہمارے نقطہ نظر کے حوالے سے نہایت درجے اہمیت کا حامل ہے۔ یقیناً اس کے لئے ہم ہر ضروری کاروائی کریں گے۔
افغانستان کی سرحدوں کے قریب روس، تاجکستان اور ازبکستان کی مشترکہ فوجی مشقوں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ تاجکستان اور کرغستان میں ہماری فوجی بیسیں موجود ہیں اور ہم مشترکہ فوجی مشقیں بھی ایک تواتر سے کرتے رہیں گے۔
