English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسلام آباد میں محرم الحرام کے جلوس پر مبینہ پتھراؤ اور نفرت انگیز نعرہ بازی

اسلام آباد : اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نامعلوم لوگوں نے رات 10 بجے محرم کے ایک جلوس پر مبینہ طور پر پتھراؤ کیا اور اہل تشیع مسلک کے خلاف نفرت انگیز نعرہ بازی کی جبکہ پتھراؤ کے نتیجے میں ایک خاتون بھی شدید زخمی ہوئی۔

نیا دور میڈیا کو جلوس میں شریک ایک عینی شاہد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 200  لوگوں پر مشتمل ایک ماتمی جلوس ترلائی سے گزر رہا تھا کہ سو سے زیادہ لوگوں نے اس پر پتھراؤ شروع کر دہیا اور شیعہ مسلک کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے جس کی وجہ سے جلوس میں شریک لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔

عینی شاہد کے مطابق جلوس کے اطراف میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موجود تھی لیکن اس کے باوجود بھی مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا اور شیعہ مسلک کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ عینی شاہد کے مطابق پولیس اور رینجرز نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی مگر پھر بھی وہ آگے آتے رہے اور یہ سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔

عینی شاہد نے الزام لگایا کہ کچھ روز قبل اس علاقے میں ایک شیعہ مخالف عالم کو مسجد میں تقریر کے لئے بلایا گیا تھا اور اس خطاب کے حوالے سے علاقے میں پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ نیا دور میڈیا نے پمفلٹس فراہم کرنے کی استدعا کی مگر انھوں نے پمفلٹس کے حوالے سے کوئی شواہد فراہم نہیں کئے۔

دوسری جانب ڈی سی اسلام آباد نے اس واقعے سے متعلق ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ یہ سچ نہیں، تاہم انہوں نے اس کی مکمل تفصیل یا معلومات فراہم نہیں کیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کالعدم اہل سنت والجماعت کے سربراہ اورنگزیب فاروقی کو نماز جمعہ میں ایک تقریر کے لئے بلایا گیا تھا جہاں انھوں نے نفرت انگیز تقریریں کی مگر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے تاحال کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔

ایس پی رورل اسلام آباد نوشیروان  نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ رات کو راجہ ذوالفقارکی قیادت میں ایک ماتمی جلوس جاری تھا کہ قریب میں واقع مسجد عائشہ صدیقہ سے 40 سے 50 لوگ نکل آئے، انہوں نے جلوس کی طرف پتھر پھینکے اور نفرت انگیز نعرے لگائے مگر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حالات کو قابو پا لیا۔  ایس پی رورل نے جلوس میں خاتون کی زخمی ہونے کی تردید کی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا نفرت انگیز نعرے لگانے اور پتھراؤ کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔

کیا محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کوئی مربوط پالیسی تیار کی ہے؟ اس پر موقف لینے کے لئے نیا دور میڈیا نے اسلام آباد پولیس کے ترجمان ڈاکٹر سید مصطفی تنویر اور ضلعی انتظامیہ کے ترجمان سے  موقف جاننے کے لئے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے