طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہوگئے جس کے بعد سرکاری ملازمین افراتفری میں حکومتی دفاتر سے فرار ہونے لگے جبکہ امریکی سفارتخانے میں ہیلی کاپٹرز بھی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
اس سے قبل طالبان نے مزاحمت اور لڑائی کے بغیر افغانستان کےشہر جلال آباد پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول دارالحکومت کابل تک ہی محدود ہوگیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، جلال آباد کے سقوط نے طالبان کو اس سڑک کا کنٹرول بھی دے دیا جو پاکستان کے شہر پشاور کو افغانستان سے ملاتی ہے اور ملک کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے جبکہ پاکستان نے طورخم کی سرحد بند کر دی ہے۔
نیٹو عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین عملے کے کئی ارکان کابل میں نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں جبکہ امریکی عہدیدار کا بتانا ہے کہ امریکی سفارت خانے کا 50 سے کم عملہ کابل میں موجود ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز طالبان جنگجو مزار شریف میں بھی مزاحمت کے بغیر داخل ہوگئے کیوں کہ حفاظتی اہلکار شاہراہ سے ہمسایہ ملک ازبکستان کی جانب بھاگ گئیں۔
اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غیر مصدقہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغان فوج کی گاڑیاں اور یونیفارم میں ملبوس آدمی افغان قصبے حیرتان اور ازبکستان کے درمیان لوہے کے پل پر جمع ہورہے ہیں۔
ادھر کابل میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو حکم دیا جاچکا ہے کہ وہ حساس مواد کو جلانا شروع کردیں جبکہ برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک اور اسپین سمیت یورپی ممالک اپنے متعلقہ سفارت خانوں سے اہلکاروں کو واپس بلانے کا اعلان کر چکے ہیں۔
