سوات میں دہشت گردی کا نشانہ بنننے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی طالبان کے خلاف افغان عوام
کے حق میں بول پڑیں۔ ملالہ کہتی ہیں افغانستان کی صورت حال پر انتہائی کرب میں مبتلا ہیں باالخصوص
عوام کی حالت پر انہیں رحم آتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی المیہ سے پہلے فوری اپنی توجہ
اس جانب مبزول کرائے۔
ملالہ نے کہ امریکا کے صدر اس سلسلے میں بہت کرسکتے ہیں اور میں دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی رابطہ
کروں گی۔ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں انہوں نے فوری طور پر افغان عوام کی مدد پر زور دیا ہے۔
برطانیہ میں مقیم 23 سالہ ملالہ یوسف زئی پر 2012 میں طالبان نے سوات میں قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ حملے
میں وہ دیگر طالبات کے ساتھ شدید زخمی ہوئی تھیں۔ علاج کے لیے انہیں لندن منتقل کیا گیا اور اب وہیں
وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔ حملے کے وقت ان کی عمر صرف 11 سال تھی۔
افغانستان میں طالبان کے دوسرے دور کا آغاز، بریف کیس سیاستدان فرار
خیال رہے طالبان نے 6 اگست سے صوبائی دارلحکومتوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے
ملک کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ افغانستان خونی لڑائیوں سے شہرت رکھتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس بار
طالبان نے بغیر گولی چلائے کابل کے صدارتی محل پر بھی قبضہ کرلیا۔
