English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان نے کابل ایئر پورٹ جانے والے متعدد راستے بند کر دیے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئر پورٹ پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد طالبان نے ہفتے کو ایئر پورٹ کے اطراف لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے اضافی مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر طالبان نے تلاشی لینے کے لیے نئے چوکیاں بھی قائم کر دی ہیں۔

ایئر پورٹ کے اطراف علاقے، جہاں گزشتہ دو ہفتوں سے لوگ افغانستان سے باہر جانے کے لیے جمع ہو رہے تھے، اب زیادہ تر خالی ہیں۔

رواں ہفتے جمعرات کو ہونے والے خود کش دھماکے میں ڈیڑھ سو سئ زائد افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

خود کش حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی جس کو زیادہ شدت پسند گروہ سمجھا جاتا ہے۔ خدشہ ہے کہ وہ مزید حملے بھی کر سکتے ہیں۔

متعدد مغربی ممالک نے افغانستان سے انخلا کا آپریشن امریکہ کی طرف سے دی جانے والی 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی مکمل کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

کیا افغانستان میں طالبان کو داعش سے خطرہ ہے؟





please wait



No media source currently available

ایک افغان شہری کا، جو کہ امریکہ کی فوج کے ساتھ بطور مترجم منسلک تھا، کہنا تھا کہ اس نے جمعے کو رات گئے ایئر پورٹ پہنچنے کی کوشش بھی کی تاہم تین چوکیوں کو عبور کرنے کے بعد اسے چوتھے چیک پوائنٹ پر روک لیا گیا۔

افغان شہری کے مطابق اس کے پاس افغانستان چھوڑنے کی اجازت نامہ بھی تھا۔

شہری کا مزید کہنا تھا کہ جب طالبان سے بحث ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ صرف امریکی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو آگے جانے کی اجازت دی جائے۔

افغان شہری کا سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کابل سے واپسی پر ’اے پی‘ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ اپنے مستقبل سے متعلق انتہائی نا امید ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر انخلا مکمل ہو گیا ہے تو اس کے بعد ان کے ساتھ کیا ہو گا؟

ہفتے کو طالبان نے ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر اکٹھے ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

انخلا کے امور انجام دینے والے حکام کے مطابق ایک لاکھ سے زائد لوگ کابل ایئر پورٹ سے نکالے جا چکے ہیں جب کہ ابھی بھی ہزاروں افراد نکلنے کی کوششوں میں ہیں جو کہ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے منگل کی طے کردہ ڈیڈ لائن تک نہیں نکل سکیں گے۔

'میں چاہتی ہوں کہ اسکول کھلیں اور لڑکیاں پڑھنے جا سکیں'





please wait



No media source currently available

دوسری طرف کابل میں سیکڑوں مظاہرین نے بینک کے باہر مظاہرہ کیا جن میں سرکاری اہل کار بھی شامل تھے جب کہ کیش مشینوں کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں گزشتہ چھ ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں اور وہ رقم نکلوانے سے قاصر ہیں۔

خیال رہے کہ رقم نکالنے والی اے ٹی ایم مشینیں چل تو رہی ہیں تاہم 24 گھنٹوں میں 200 ڈالر سے زیادہ رقم نہیں نکالی جا سکتی۔

اس خبر کے لیے مواد خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے