English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان سے آنے والے 50 ہزار مہاجرین کو امریکہ میں بسانے کا عمل جاری

قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری آلے ہاندرو مے یورکاس نے کہا ہے کہ امریکہ 50 ہزار سے زائد ایسے افغان شہریوں کو اپنے ملک میں بسانے کی امید رکھتا ہے جنہوں نے افغان جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کی تھی۔

آلے ہاندرو کے مطابق اب تک ہزاروں افغان جانچ پڑتال کے عمل سے گزر کر امریکہ میں داخل ہو چکے ہیں تاکہ انہیں ملک میں بسانے کا عمل شروع کیا جا سکے۔

جمعے کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مزید کتنے افغان امریکہ میں داخل ہو سکیں گے اور کب تک یہ عمل جاری رہے گا، یہ سوالات ابھی باقی ہیں۔

ان کے بقول یہ آئندہ چند ہفتوں کی بات نہیں ہے۔ بلکہ تب تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہدف پورا نہیں ہو جاتا۔

امریکہ کی ریاست ڈیلاوئیر کے گورنر جیک مارکیل ’آپریشن ایلائیز ویلکم‘ (یعنی آپریشن اتحادیوں کو خوش آمدید) کے معاون مقرر کیے گئے ہیں۔ افغانستان سے شہریوں کو انخلا کے بعد امریکہ لانے کی کارروائی کو وائٹ ہاؤس نے ’آپریشن ایلائیز ویلکم‘ کا نام دیا ہے۔

گورنر جیک مارکیل نیشنل سیکیورٹی کونسل، ڈومیسٹک پالیسی کونسل، ہوم لینڈ سیکیورٹی اور دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر اس بات کو ممکن بنائیں گے کہ خطرے میں گھرے ہوئے افغان شہریوں کو سیکیورٹی کی جانچ پڑتال سے گزرنے کے بعد امریکہ میں بسانے کا عمل مؤثر انداز میں تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے ایک جینیوا سے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے لاکھوں افغان بے گھر ہو چکے ہیں اور ان کی فوری امداد کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں کسی بھی انسانی المیے سے بچا جا سکے۔



فائل فوٹو

ایجنسی کے مطابق 35 لاکھ سے زائد افغان جنگ اور سلامتی کے خدشات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں پانچ لاکھ سے زائد افراد رواں برس بے گھر ہوئے۔ بے گھر ہونے والوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

یو این ایچ سی آر نے پیش گوئی کی ہے کہ پانچ لاکھ سے زائد افغان شہری دوسرے ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست دے کر منتقل ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مبصرین کے مطابق پاکستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب بڑی تعداد میں مہاجرین کی افغانستان سے ان ممالک میں منتقلی ابھی تک ممکن نہیں ہو پائی ہے۔

اسلام آباد سے بات کرتے ہوئے ادارے کے ترجمان بابر بلوچ نے وائس آف امریکہ کی لیسا شیلین نے کہا کہ ان کا ادارہ اس بات کا کھوج لگا رہا ہے کہ اب تک اتنی کم تعداد میں مہاجرین کی آمد کی کیا وجہ ہے۔

ان کے بقول اس بات کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اصل بحران افغانستان کے اندر پیدا ہو رہا ہے۔

بابر بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد تجارت کے لیے تو کھلی ہے لیکن بہت کم تعداد میں افغان شہری اسے پار کر پا رہے ہیں۔

افغانستان میں 35 لاکھ لوگ اندرونی طور پر بے گھر ہوئے ہیں: اقوامِ متحدہ





please wait



No media source currently available

انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ افغانستان کے بحران کو نہ بھلایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ عالمی طور پر اپیل کر رہا ہے کہ دنیا افغان عوام کے مسائل سے توجہ نہ ہٹائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے